قوانین کے تحت بغیر امتحان لیے طلبہ کو پروموٹ نہیں کر سکتے: وزیر تعلیم سندھ
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن قانونی طور پر نویں، دسویں، فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کی اگلی جماعتوں تک رسائی کے لیے امتحانات کے علاوہ کوئی قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔
لہذٰا یہ قانونی گنجائش نکالنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا ہو گی۔
وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ بعض نجی اسکولوں نے تجاویز دی ہیں کہ وہ آن لائن تدریس اور بچوں کو ہوم ورک گھروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے یکم جون کو اسکول نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت آن لائن تدریس پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اساتذہ کو اسکولوں میں بلایا جائے اور بچے گھر پر ہی رہیں۔ لیکن اس میں رکاوٹ دیہی علاقوں میں انٹر نیٹ نہ ہونا ہے۔ جس کے لیے کمپنیوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی علی وزیر میں وائرس کی تصدیق
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 35 کیس رپورٹ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو مزید 35 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس طرح لداخ سمیت جموں و کشمیر میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد 1050 ہو گئی ہے۔ اب تک 10 افراد کی وائرس سے ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
ماہرین کے بقول وبا کے نفسیاتی اثرات بھی لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔
شورش زدہ علاقے میں تعینات بھارتی وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک افسر فتح سنگھ نے مبینہ طور پر اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خود کشی کی۔ بھارتی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے سنگھ نے اپنے خود کشی نوٹ میں لکھا تھا کہ "میری لاش کو کوئی نہ چھوئے مجھے ڈر ہے کہ میں کرونا میں مبتلا ہو گیا ہوں۔"
حکام کے مطابق بھارت میں پیر کی صبح سے منگل کی دوپہر تک کرونا کے مزید چار ہزار کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس طرح ملک میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 71 ہزار ہو گئی ہے۔ اب تک 2300 افراد وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
سماجی پابندیاں ہٹانے سے متعلق ڈاکٹر فاؤچی امریکی کانگریس کو بریفنگ دیں گے
امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ وہ آج منگل کے روز کانگریس کو تفصیلاً بتائیں گے کہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اس قدر جلد ہٹا لینے سے کتنی خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے 'اخبار نیو یارک ٹائمز' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کانگریس کے لیے ان کا بنیادی پیغام یہ ہو گا کہ اگر ملک میں وائٹ ہاؤس کے تین چیک پوائنٹس پر مبنی منصوبے کو نظر انداز کیا گیا تو امریکہ بھر میں کرونا وائرس شدت سے سر اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں زیادہ بیماری اور اموات ہوں گی۔ تاہم یہ ہمیں زندگی کو معمول پر لانے میں مدد دے گا۔
طبی ماہرین کئی ہفتوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ وقت سے پہلے لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹانے اور کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں عجلت سے کرونا وائرس ایک بار پھر شدت سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ جس سے نہ صرف صحت عامہ کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے معیشت کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
ڈاکٹر فاؤچی آج سینٹ کی صحت، تعلیم، اجرت اور پینشن کمیٹیوں کے روبرو پیش ہوں گے جہاں وہ کام اور اسکول میں محفوظ طریقے سے واپسی کے بارے میں تجاویز پیش کریں گے۔
ڈاکٹر فاؤچی دیگر اعلیٰ طبی مشیروں ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ اور ڈاکٹر سٹیفن ہان کے ہمراہ سینٹ کی کمیٹیوں کے روبرو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بیان دیں گے۔ کیوں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والے اہلکاروں سے رابطے میں رہنے کے بعد از خود آئسولیشن میں ہیں۔