کوئٹہ میں 37 صحافی کرونا وائرس سے متاثر
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مزید صحافی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جس کے بعد متاثرہ صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے۔
بلوچستان یونین آف جر نلسٹس (بی یو جے) کے جنرل سیکریٹری رشید بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 37 صحافیوں کے علاوہ میڈیا سے وابستہ اور لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں جو کسی چینل میں ڈرائیور ہیں یا ٹیکنیکل کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت نے صحافیوں کو 110 کیٹس فراہم کی تھیں۔ جس کے بعد ایک میڈیکل ٹیم کوئٹہ پریس کلب بھی آئی اور 110 صحافیوں کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے بعد 37 صحافیوں کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔
رشید بلوچ کا کہنا تھا کہ متاثرہ صحافیوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد بی یو جے نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صحافی اور دیگر عملہ رش والی جگہوں اور اجتماعات کی کوریج کے لیے نہیں جائیں گے۔ اسی طرح کچھ دیگر احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں گی۔
رشید بلوچ نے بتایا کہ قرنطینہ سینٹرز صرف کوئٹہ میں بنائے گئے ہیں اس لیے یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کوئٹہ کے علاوہ دوسرے اضلاع میں کتنے صحافی کرونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب ان اضلاع میں بھی ٹیسٹ کیے جائیں گے تو ہی پتہ چلے گا کہ وہاں کتنے صحافی اس سے متاثر ہیں۔
پاکستان اور ایران کی سرحد کھول دی گئی
پاکستان اور ایران کی سرحد پر تفتان بازار کے قریب باب دوستی بدھ کو دوبارہ کھول دیاگیا ہے۔
یہ گیٹ 22 فروری کو ایران میں کرونا وائرس سے تیزی سے پھیلنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
تحصیل دار تفتان ظہور بلوچ کے بقول گیٹ کھولنے کے بعد ایران میں موجود درجنوں ٹرک پاکستان میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر تجارت شروع ہو گئی ہے۔
ظہور بلوچ نے مزید بتایا کہ تفتان میں ایران سے آنے والے زائرین کے لیے قائم کیا گیا قرنطینہ سینٹر اب بھی فعال ہے۔ وہاں اب بھی ایران سے آنے والے زائرین اور تاجروں کو 14 دن کے لیے رکھا جاتا ہے جب کہ ایران سے آنے والے لوگوں کا ٹیسٹ بھی یہیں پر کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں خواتین و بچوں پر تشدد میں 200 فی صد اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے دوران لاک ڈاؤن میں 2020 کی پہلی سہ ماہی میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد میں 200 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی جاری کردہ رپورٹ میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد، زیادتی، کم عمری میں شادیاں اور قتل کے واقعات سے متعلق تفصیلات دی گئی ہیں۔
یہ تفصیلات اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے 90 فی صد واقعات شہروں میں پیش آئے۔
ادارے کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے واقعات پر مبنی ہیں جب کہ جو کیس رپورٹ نہیں ہوئے یا جنہیں مبینہ طور پر دبا دیا گیا اگر انہیں بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد 90 فی صد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں وائرس سے متاثرہ 69 افراد صحت یاب
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید تین افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کیسز کی تعداد 91 ہو گئی۔
کشمیر کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وبا سے متاثرہ ایک اور مریض صحت یاب ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 208 نئے افراد کے کرونا وائرس کے شبہے میں ٹیسٹ کیے گئے۔ نئے سامنے آنے والے کیسز میں سے دو افراد کا تعلق ضلع باغ جب کہ ایک کا راولا کوٹ سے ہے۔
حکام کے مطابق کشمیر میں اب تک 3245 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 3183 کے رزلٹ آ چکے ہیں جب کہ 91 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 69 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں اسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جب کہ 21 مریض زیرِعلاج ہیں جب کہ اب تک شخص کی وبا سے ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔