امریکہ میں 9 ہفتوں کے دوران 3 کروڑ 86 لاکھ افراد بیروزگار
کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی معیشت کا زوال جاری ہے اور گزشتہ ہفتے مزید 24 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔ اس طرح 9 ہفتوں میں ذریعہ آمدن سے محروم ہونے والوں کی تعداد 3 کروڑ 86 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ معیشت جمود کا شکار ہونے سے مزید دسیوں لاکھ افراد کا بھی روزگار ختم ہوا ہے۔ لیکن، وہ اس لیے شمار نہیں کی جاسکے، کیونکہ وہ بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں یا ان کے پاس قانونی دستاویزات کی کمی ہے۔
محکمہ مردم شماری کے ایک حالیہ سروے میں تقریباً نصف افراد نے بتایا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی ایک شخص ملازمت کھو چکا ہے۔ مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ 40 ہزار ڈالر سے کم سالانہ آمدنی والے گھرانوں کے 40 فیصد افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے تمام ریاستوں میں کاروبار جزوی طور پر کھل رہے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معیشت کو بحال ہونے میں طویل عرصہ لگے گا۔ بعض ماہرین نے پہلے کہا تھا کہ معیشت کھلتے ہی بیشتر افراد کو دوبارہ ملازمت مل جائے گی۔ لیکن اب ان کی رائے بھی یہی ہے کہ معاشی زخموں کو بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
کرونا وائرس سے 91 سالہ بوڑھا اور 2 دن کا بچہ ہلاک
وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے 11 صدور کی خدمت کرنے والا بٹلر کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر چل بسا۔ ولسن روزویلٹ جرمن کی عمر 91 سال تھی۔ ادھر جنوبی افریقہ میں ایک دو دن کا بچہ وبا کی زد میں آکر دم توڑ گیا۔
صحت عامہ کے ماہرین ان اموات کو بطور مثال پیش کر رہے ہیں کہ خطرناک وائرس سے کسی کو تحفظ حاصل نہیں اور قیمتی جانیں بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے بدھ کو آگاہ کیا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ چھ ہزار افراد کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک دن میں ایک لاکھ مریضوں کا علم ہوا۔
یہ سب مریض گزشتہ روز بیمار نہیں ہوئے تھے یا ان سب کے ٹیسٹ بدھ کو نہیں کیے گئے۔ بعض صورتوں میں ٹیسٹ کا نتیجہ کئی دن بعد ملتا ہے۔ لیکن ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان اعدادوشمار سے کم از کم یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ وبا کا زور کم نہیں ہوا۔
کرونا وائرس: نیویارک کے ویران ریستوران گاہکوں کی راہ تک رہے ہیں
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں اقتصادی شعبے میں جس طرح تباہی مچائی ہے وہ تصور سے باہر ہے۔ کرہ ارض کے تمام ممالک یکساں طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں چاہے وہ کسی خطے ہی میں کیوں نہ واقع ہوں۔
بعض ترقی پزیر ملکوں میں فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ، چاہے ان کا تعلق امیر ملکوں سے ہو یا غریب ملکوں سے، بیروزگاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں مستقبل کے لئے کوئی اچھی پیش گوئی محال ہے اور بے یقینی اور مایوسی کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں۔
بہت سے شہر جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جو اقتصادی مواقع اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب اپنی رونقوں سے گویا محروم ہوگئے ہیں۔ ان میں نیویارک کا شہر بھی شامل ہے جہاں زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
نیویارک شہر کے ریستوران بھی ان میں شامل ہیں، جو اپنی گہما گہمی اور انواع و اقسام کے کھانوں کے لئے مشہور تھے، اب ویرانی کا منظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کاروبار عملاً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
- By مدثرہ منظر
کیا امریکہ میں کرونا وائرس کی بر وقت روک تھام ممکن تھی؟
کسی بھی صورتِحال سے نمٹنے کیلئے بر وقت ضروری اقدامات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے متاثر ہونے اور موت کا شکار ہونے کے بعد اب اس بارے میں بھی بات ہو رہی ہے کہ آیا اس وبا سے بچنے کے اقدامات بر وقت کئے گئے تھے؟
اخبار 'دی نیو یارک ٹائمز' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ میں سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی فاصلے کا آغاز اس سے ایک ہفتہ پہلے کر دیا جاتا جب مارچ کے مہینے کے وسط میں امریکی ریاستوں میں لوگوں کو گھروں میں بند ہو کر رہنے کیلئے کہا گیا تو چھتیس ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
امریکہ میں صحتِ عامہ کے عہدیدار فروری کے اوائل میں ہی کرونا وائرس سے خبردار کر رہے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ سان فرانسسکو میں بڑی کمپنیوں کے مالکان اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ریاست واشنگٹن میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ باقی دنیا کی بات کیجئے تو یہی وقت تھا جب جنوبی کوریا، ویت نام اور دیگر ممالک کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سخت اقدامات کر رہے تھے۔