رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں 9 ہفتوں کے دوران 3 کروڑ 86 لاکھ افراد بیروزگار


کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی معیشت کا زوال جاری ہے اور گزشتہ ہفتے مزید 24 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔ اس طرح 9 ہفتوں میں ذریعہ آمدن سے محروم ہونے والوں کی تعداد 3 کروڑ 86 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ معیشت جمود کا شکار ہونے سے مزید دسیوں لاکھ افراد کا بھی روزگار ختم ہوا ہے۔ لیکن، وہ اس لیے شمار نہیں کی جاسکے، کیونکہ وہ بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں یا ان کے پاس قانونی دستاویزات کی کمی ہے۔

محکمہ مردم شماری کے ایک حالیہ سروے میں تقریباً نصف افراد نے بتایا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی ایک شخص ملازمت کھو چکا ہے۔ مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ 40 ہزار ڈالر سے کم سالانہ آمدنی والے گھرانوں کے 40 فیصد افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے تمام ریاستوں میں کاروبار جزوی طور پر کھل رہے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معیشت کو بحال ہونے میں طویل عرصہ لگے گا۔ بعض ماہرین نے پہلے کہا تھا کہ معیشت کھلتے ہی بیشتر افراد کو دوبارہ ملازمت مل جائے گی۔ لیکن اب ان کی رائے بھی یہی ہے کہ معاشی زخموں کو بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اگرچہ بیروزگاری جھیلنا مشکل کام ہے، لیکن حکومت کی امداد نے کچھ سہارا ضرور دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق، وفاقی حکومت کے 1200 ڈالر کے مستحق تین چوتھائی افراد کو رقم مل چکی ہے۔ جو لوگ بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دے چکے ہیں، انھیں ریاستی حکومتوں سے رقم کے علاوہ وفاقی انتظامیہ سے بھی ہر ہفتے اضافی 600 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔

مختلف ریاستوں میں ایسے پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں جن کی بدولت فری لانسرز، سیلف ایمپلائیڈ اور ایسے لوگوں کو بھی کچھ رقوم ملیں گی جو عام طور پر بیروزگاری الاؤنس کے مستحق نہیں سمجھے جاتے۔

لیکن، بعض ریاستوں میں اس قدر زیادہ لوگ بیروزگار ہوئے ہیں کہ ان کی انتظامیہ کام نہیں سنبھال پارہی اور کچھ لوگوں کو دو ماہ پہلے درخواست دینے کے باوجود ابھی تک پہلا چیک نہیں ملا۔ انڈیانا، وایومنگ، ہوائی اور مزوری میں کام سے محروم لوگوں کی درخواستوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ کینٹکی میں ہر تیسرا شخص بیروزگار بیٹھا ہے۔

وفاقی انتظامیہ کی جانب سے بیروزگار افراد کو اضافی 600 ڈالر کی رقم جولائی تک دی جائے گی۔ ڈیموکریٹک پارٹی اس مدت میں اضافہ چاہتی ہے، لیکن صدر ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی اس کے حق میں نہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، سینیٹ میں ری پبلکن قائد مچ میک کونل نے بدھ کو ارکان کانگریس سے کہا کہ اس پالیسی کو بدلنا پڑے گا جس کی وجہ سے گھر بیٹھے لوگوں کو کام پر جانے کی نسبت زیادہ پیسے مل رہے ہیں۔

محکمہ محنت کے مطابق، وسط مارچ میں ہنگامی حالت کا اعلان ہونے کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ، چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ، ساتویں ہفتے میں 32 لاکھ اور آٹھویں ہفتے میں 30 لاکھ شہری بے روزگار ہوئے تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس بحران سے پہلے معیشت کی ترقی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی بیان کرتے تھے۔ لیکن، ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس نے نہ صرف ان کے دور بلکہ گزشتہ دس سال میں پیدا ہوئے روزگار کے تمام مواقع ختم کر دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG