رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:26 26.5.2020

کرونا ٹیسٹ منفی آنا بھی سزا بن گیا، انعم تنویر

پاکستانی ڈراموں کی اداکارہ انعم تنویر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنا بھی اُن کے لیے ایک سزا بن گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی ڈراموں کے فن کار یاسر نواز، ان کی اہلیہ ندا یاسر، اداکارہ علیزے شاہ اور نوید رضا کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یہ چاروں فن کار پاکستان کے نجی ٹی وی چینل 'اے آر وائی ڈیجیٹل' کے ڈرامے 'میرا دل میرا دشمن' کی کاسٹ میں شامل ہیں جب کہ انعم تنویر بھی اسی کا حصہ ہیں۔

اداکارہ انعم کا کرونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ اس کے باوجود ساتھی فن کاروں کے رویے نے اُنہیں افسردہ کر دیا ہے۔

ساتھ ہی شوبز سے وابستہ شخصیات کو انہوں نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ لوگوں کے رویے سے ماڈل کی زندگی ختم ہونے کا جو ڈر برقرار ہے، اس کی ذمے داری کون لے گا؟

انعم تنویر 'میرا دل میرا دشمن" میں نوید رضا کی اہلیہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انعم کہتی ہیں کہ ایک طرف تو لاک ڈاؤن نے سب کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے تو دوسری جانب ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے جو بلاجواز ہے۔

مزید پڑھیے

02:30 26.5.2020

احتیاط نہ کی تو لاک ڈاؤن کو سخت کیا جاسکتا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے اور تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کیسز کی تعداد 56 ہزار 349 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 1167 اموات ہو چکی ہیں۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ بیماری عید تک تھی لیکن ایسا نہیں، ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو مزید سخت لاک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔

کرونا متاثرین میں اضافہ پاکستان میں حالیہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک بھر میں عید کی خریداری کے دوران حفاظتی انتظامات اور دیگر پہلوؤں کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ عید کی نماز بھی اکثر مساجد میں ادا کی گئی، جس کے بعد ماہرین کا خدشہ ہے کہ ان کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صورت حال پاکستان میں جتنی خراب ہونی تھی وہ پہلے ہی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسپتالوں پر دباؤ بہت بڑھ چکا ہے۔ بیشتر اسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیے

02:32 26.5.2020

کرونا وائرس اور سائیبر حملے ساتھ ساتھ جاری

کرونا وائرس کی عالم گیر وبا کے باوجود سائیبر حملوں کے خطرات پوری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ بہت سے ممالک ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ سائیبر جنگ میں ملوث ہیں۔ ہر ملک یہی شکایت کرتا ہے کہ اس کے سائیبر حقوق پر ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کرونا وائرس سے لڑنے سے متعلق مختلف ملکوں کی تحقیقات بھی چوری ہو رہی ہیں۔

تل ابیب سے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار لنڈا گریڈ سٹائین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کے قومی ڈائریکٹریٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سینکڑوں ویب سائٹس ہیک کر لی گئی ہیں۔

اسرائیل کو شک ہے کہ ممکنہ طور پر یہ کارروائی ایران کی ہو سکتی ہے۔ بسا اوقات اسرائیل کی ویب سائٹس کے مواد کو بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے جوابی کارروائی کے طور پر ایسے اقدام کیے۔

اسرائیل ایک عرصے سے سائیبر سیکیورٹی کے سلسلے میں سرگرم ہے۔ اس کی فوج میں سینکڑوں سائیبر ماہرین کام کرتے ہیں اور فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد نجی کمپنیوں میں بھی یہی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

تل ابیب یونیورسٹی کے سائیبر ریسرچ سینٹر کے محقق جل بارام بتاتے ہیں کہ اسرائیل اپنے منفرد انداز سے اس مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔ یہ تعلیمی، سرکاری اور نجی اداروں کے اشتراک سے درپیش عالمی خطروں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ کیوں کہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ نہ صرف اس سے فوج کو خطرہ ہے بلکہ ملک کی سلامتی بھی خطرے میں ہے۔

مزید پڑھیے

02:38 26.5.2020

کرونا بحران میں 'غلط اطلاعات کی وبا' پر کنٹرول ضروری ہے

اقوام متحدہ نے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کوویڈ 19 کے متعلق مصدقہ اطلاعات فراہم کی جائیں گی تا کہ اس موذی مرض کے ساتھ ساتھ "غلط اطلاعات کی وبا" سے بھی مقابلہ کیا جا سکے۔

اس نئے منصوبہ کا نام ویریفائیڈ یعنی مصدقہ رکھا گیا ہے اور اس کے ذریعے دنیا کی مختلف زبانوں میں کرونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے متعلق تصدیق شدہ اور سائنسی حقائق پر مبنی اطلاعات سے دنیا کو باخبر رکھا جائے گا۔

اس نے پروگرام کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کے مختلف حصوں میں خدشوں اور سازشی مفروضوں کی بھرمار نے نہ صرف صحت عامہ کے اہل کاروں اور طبی ماہرین کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ حکومتوں کے لئے بھی کوویڈ 19 سے نمٹنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایک وسیع زاویے سے نظر ڈالی جائے تو غلط اطلاعات کے پھیلاؤ میں تین طرح کے کردار سامنے آتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو محض کہی سنی باتوں پر یقین رکھتے ہوئے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ دوسرا وہ لوگ جو عوام میں بے چینی کی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر سازشی مفروضوں کو ہوا دیتے ہیں۔ تیسرا کچھ سیاسی جماعتوں سمیت ایسی تنظیمیں اور رہنما، جو اپنے مخالفین سے مقابلے کی خاطر ہر چیلنج کو اپنے بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی رسائی سے ان غلط اطلاعات اور پراپیگنڈے کو تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG