رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا بحران میں 'غلط اطلاعات کی وبا' پر کنٹرول ضروری ہے


میموریل ڈے پر ٹیکساس کے علاقے پورٹ آرکنسا میں لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے اور سماجی فاصلوں کا خیال کیے بغیر تفریحی مقامات پر اکھٹے ہوئے۔ 25 مئی 2020

اقوام متحدہ نے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کوویڈ 19 کے متعلق مصدقہ اطلاعات فراہم کی جائیں گی تا کہ اس موذی مرض کے ساتھ ساتھ "غلط اطلاعات کی وبا" سے بھی مقابلہ کیا جا سکے۔

اس نئے منصوبہ کا نام ویریفائیڈ یعنی مصدقہ رکھا گیا ہے اور اس کے ذریعے دنیا کی مختلف زبانوں میں کرونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے متعلق تصدیق شدہ اور سائنسی حقائق پر مبنی اطلاعات سے دنیا کو باخبر رکھا جائے گا۔

اس نے پروگرام کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کے مختلف حصوں میں خدشوں اور سازشی مفروضوں کی بھرمار نے نہ صرف صحت عامہ کے اہل کاروں اور طبی ماہرین کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ حکومتوں کے لئے بھی کوویڈ 19 سے نمٹنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایک وسیع زاویے سے نظر ڈالی جائے تو غلط اطلاعات کے پھیلاؤ میں تین طرح کے کردار سامنے آتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو محض کہی سنی باتوں پر یقین رکھتے ہوئے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ دوسرا وہ لوگ جو عوام میں بے چینی کی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر سازشی مفروضوں کو ہوا دیتے ہیں۔ تیسرا کچھ سیاسی جماعتوں سمیت ایسی تنظیمیں اور رہنما، جو اپنے مخالفین سے مقابلے کی خاطر ہر چیلنج کو اپنے بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی رسائی سے ان غلط اطلاعات اور پراپیگنڈے کو تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سحر خامس جو میری لینڈ یونیورسٹی میں مواصلات کے شعبے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں کہتی ہیں کہ غلط اطلاعات اور افواہوں کو اس وقت پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے جب عوام اور قابل یقین اطلاعات کہ درمیان خلیج موجود ہو۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وبا کے پھیلنے کے آغاز سے ہی بہت سے لوگوں نے افواہوں کا بازار گرم کر دیا جیسا کہ اس وائرس کا آغاز کہاں سے ہوا یا یہ کہ چین اس کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا، میں یہ کہوں گی کہ انٹرنیٹ ایک دو دھاری تلوار ہے ہے، جسے دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ استعمال کرتا ہے۔ اور ایسے عناصر جو غلط اطلاعات یا افواہیں پھیلانا چاہیں، وہ تھوڑے ہی وقت میں تیز رفتاری کے ساتھ یہ کام کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سحر خامس
ڈاکٹر سحر خامس

ایسے میں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے مصدقہ اور صحیح اطلاعات عوام تک پہنچائیں۔

ڈاکٹر خامس جو کہ بین الاقوامی اور خصوصاً عرب میڈیا کی ماہر ہیں کہتی ہیں، 'جہاں تک مرکزی دھارے میں شامل ذرائع عامہ کا تعلق ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ میں بھی دو طرح کا بیانیہ نظر آتا ہے۔

ان کے بقول امریکی میڈیا میں اس وقت ایک واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف تو روایتی یا سیاسی قدامت پسندی کی طرف مائل میڈیا صدر ٹرمپ کے خیالات کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے، جب کہ دوسری طرف آزاد خیال سیاست کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اخبارات اور ٹی وی چینلز ہیں، جو انتظامیہ کے اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔ اور اس صورت حال نے صدارتی الیکشن کے اس سال میں کوویڈ 19 سے نمٹنے کے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

ان سارے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کی حقائق پر مبنی اطلاعات تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔

امریکہ میں تحقیقی ادارے پیو ریسرچ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ امریکی عوام میں میڈیا پر اعتماد لوگو ں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی اور ان کے سیاسی خیالات سے منسلک ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کچھ مذہبی رہنماؤں نے بھی کرونا وائرس کے متعلق غیر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اور ایسے میں کمیونٹیز کا کردار بھی اہم ہے تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو، جن میں فیس بک اور یوٹیوب شامل ہیں، مختلف لوگوں کی طرف سے غیر مصدقہ اطلاعات اور پراپیگنڈے سے بھری پوسٹس شائع کرنے کے حوالے سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں نے اعلان کیا کہ وہ افسانے اور حقائق کو الگ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور حقائق کے منافی پیغامات کو ہٹا دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا کی ماہر نبیلہ خٹک کہتی ہیں کے 2017 سے اب تک گزشتہ تین سالوں میں عوامی رابطوں کے ان پلیٹ فارمز کا غلط استعمال دو گنا بڑھ گیا ہے کیونکہ لوگ نقلی اکاؤنٹس بنا کر اور مشینوں کے ذریعے انسانی روپ دھار کر اپنے مقصد کے لئے کاروائیاں کرتے ہیں۔

نبیلہ خٹک
نبیلہ خٹک

وہ کہتی ہیں کہ عوام کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ نقلی اکاؤنٹ کے پیچھے کون کارفرما ہے۔ اکثر یہ کام افراد کا نہیں ہوتا بلکہ سیاسی پارٹیاں تنظیمی اور بین الاقوامی سطح پر حکومتیں کر رہی ہوتی ہیں۔

نبیلہ خٹک نے، جو کہ دی سوشل کمپنی کی بانی ہیں، مثال دی کہ فوربز جریدے کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والی اوپن امریکہ مہم کے پیچھے بوٹ یعنی کمپیوٹر سافٹ ویئر کا مشینی عمل دخل شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے کچھ لوگوں نے کرونا وائرس کی آڑ میں ایشیائی امریکی شہریوں کو نفرت انگیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا، اگرچہ ٹیکنالوجی میں جھوٹ کو فلٹر کے ذریعے الگ کرنے کی کوششوں میں جدت آئی ہے اس سلسلے میں ابھی آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ افراد کو یہ معلوم ہو سکے کہ انٹرنیٹ پر کئی قسم کے لوگ اور تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے کام کر رہے ہیں جو کہ عام لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ دہائی میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے جھوٹی خبریں غلط اطلاعات اور پروپیگنڈے کو کم ترین وقت میں تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے اور اس سے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور حتیٰ کہ بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اب جب کہ تین ارب سے زائد لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔ کرونا بحران میں حکومتوں اقوام متحدہ اور کمیونٹیز کو اس چیلنج سے نمٹنا ہو گا کہ وہ غلط اطلاعات کی وبا کو روکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG