عالمی ادارہ صحت نے ہائیڈروکسی کلورو کوئن کے ٹرائلز روک دیے
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا کے علاج کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ دوا ہائیڈروکسی کلورو کوئن کے ٹرائلز فوری روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دوا کے استعمال سے شرح اموات میں اضافے کے شواہد ملے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی ایک ٹوئٹ میں دوا کے کلینکل ٹرائلز روکنے کا اعلان کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ دوا استعمال کرنے والے 10 ملکوں کے جائزہ اجلاس میں دوا کا استعمال روکنے ترک کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کے بقول دوا کے استعمال سے شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ہائیڈروکسی کلورو کوئن استعمال کرنے کے بڑے حمایتی ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا سے اموات کی تعداد چار ہو گئی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا سے مزید دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستانی کشمیر میں اب کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ مظفر آباد میں آئسولیش وارڈ میں زیرِ علاج ایک خاتون جب کہ میر پور میں ایک شخص کرونا کے باعث ہلاک ہوا ہے۔
گزشتہ روز بھی کرونا کے باعث ایک عمر رسیدہ خاتون انتقال کر گئی تھیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔
پاکستانی کشمیر میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 211 ہو گئی ہے۔ اب تک ایک سو کے قریب افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں کرونا سے مزید 10 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 408 ہو گئی
پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں کرونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
صوبے میں کرونا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں اب 408 ہو گئی ہیں جو ملک بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق صوبہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 175 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبے میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد آٹھ ہزار 80 ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 60 مریض صحت یاب جب کہ مجموعی طور پر 2593 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ مریضوں کی تعداد پشاور میں ہے جہاں تین ہزار سے زائد مریض وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
پشاور میں کرونا کے باعث اب تک 235 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبے میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے اراکین بھی وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے کئی سینئر ڈاکٹروں نے ملازمتوں سے استعفی بھی دے دیا ہے جب کہ اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کئی مہینوں سے امریکہ میں ہیں۔
برازیل سے امریکہ مسافروں کی آمد پر پابندی
امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی غرض سے برازیل سے مسافروں کی امریکہ آمد پر پابندی کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندی اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی طرف سے اعلان کردہ تاریخ سے دو روز قبل ہی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام نے تاریخ میں تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق امریکہ آنے والے ایسے مسافروں پر ہو گا جو گزشتہ 14 روز کے دوران کسی بھی وقت برازیل میں موجود رہے ہوں۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات دو سے 14 روز کے دوران کسی بھی وقت ظاہر ہو سکتی ہیں۔
برازیل کرونا وائرس کے متاثرین کے لحاظ سے ایک نیا مرکز بن چکا ہے اور امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے برازیل اب صرف امریکہ سے پیچھے ہے۔
برازیل کی وزارتِ صحت نے پیر کو بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 807 مزید ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اسی دوران امریکہ میں اس وائرس سے 620 اموات رپورٹ ہوئیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ برازیل سے امریکہ میں مسافروں کی آمد پر پابندی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ برازیل میں رہنے والے لوگ امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا باعث نہ بنیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسی ہی سفر کی پابندیاں چین، ایران، برطانیہ، آئرلینڈ اور یورپ کے 26 ممالک پر عائد کر چکے ہیں۔
انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے برازیل کے صدر جیر بالسونارو نے کئی ماہ سے کرونا وائرس کی شدت کو نظر انداز کیا ہے اور وہ سماجی فاصلے کی پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کاروباروں کو کھولنے پر زور دیتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک معمولی سا فلو ہے اور اس کے نتیجے میں عائد پابندیوں کی صورت میں معیشت کی تباہی سے کہیں زیادہ جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے برازیل میں کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا افراد کو ذہنی مریض قرار دیا ہے۔