رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:20 27.5.2020

پاکستان میں کرونا کیسز میں اضافہ، کیا دوبارہ لاک ڈاؤن ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں عید کی چھٹیوں کے دوران بھی کرونا وائرس کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 57 ہزار سے بڑھ گئی ہے جس کے بعد محکمہ صحت کے حکام دوبارہ لاک ڈاؤن کا انتباہ کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کرونا کے 1356 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ 30 افراد کی اموات کے بعد مجموعی ہلاکتیں 1197 ہو گئی ہیں۔

صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ 22 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار، خیبر پختونخوا میں آٹھ ہزار جب کہ بلوچستان میں بھی تین ہزار سے زائد افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جہاں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کی وجہ سے ہونے والی اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

مزید پڑھیے

02:22 27.5.2020

مختلف ملکوں میں پابندیاں نرم، سعودی عرب کرفیو محدود کرے گا

مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ملکوں میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی کا آغاز ہو گیا ہے۔ شام، فلسطین اور ایران میں پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں جب کہ سعودی عرب رواں ہفتے سے نرمی کرے گا۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے گزشتہ دو ماہ سے عائد پابندیاں تین مراحل میں ختم کی جائیں گی۔ مکہ کے علاوہ باقی ملک میں 21 جون تک کرفیو ختم کر دیا جائے گا۔

البتہ حج اور عمرہ کی ادائیگی، جس کے لیے سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی آتے ہیں، فی الحال معطل رہے گی جب تک اس سے متعلق نئے احکامات جاری نہیں ہوتے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سعودی عرب میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔ ملک بھر میں 74 ہزار 795 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ 399 اموات ہوئی ہیں۔ تقریباً دو ہزار سے زائد کیسز یومیہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔

تاہم سعودی حکام نے پابندیاں تین مراحل میں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا پہلا مرحلہ رواں ہفتے شروع ہو گا۔ جمعرات سے 24 گھنٹے کرفیو کا دورانیہ کم کر کے صرف دوپہر تین بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

02:25 27.5.2020

بھارتی کشمیر: کرونا کے مریضوں میں بتدریج اضافہ

منگل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 91 افراد میں کرونا وائرس یا کووڈ-19 کی تشخیص ہوئی، جس کے ساتھ ہی لداخ سمیت سابقہ ریاست میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1800 ہوگئی ہے۔

منگل کو ایک اور شخص کی موت واقع ہونے کے بعد وائرس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ 91 تازہ مثبت کیسز میں سے 54 کا تعلق جموں خطے سے اور باقی ماندہ 37 کا وادی کشمیر سے ہے۔ لداخ میں ساٹھ کے قریب لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

تاہم، عہدیداروں نے یہ بات دہرائی ہے کہ کووڈ-19 کے مُثبت کیسز میں تقریباً نصف صحت یاب ہوگئے ہیں اور انہیں اسپتالوں سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ-19 مریضوں کی تعداد میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس لیے نمایاں اضافہ دیکھنے کو آیا، کیونکہ نئے مثبت کیسز میں زیادہ تر وہ مقامی لوگ شامل ہیں جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کی مختلف ریاستوں اور بیرونی ممامک میں تقریباً دو ماہ تک باہر رہنے کے بعد بھارتی زیرِ انتظام کشمیر لوٹے ہیں۔

ایسے افراد کو ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں سے سیدھے قرنطینہ مراکز پہنچایا جا رہا ہے، جہاں ان کے لیے چودہ دن گزارنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہر ایک شخص میں مرض کی تشخیص کے لیے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں اور مُثبت نتائج کی صورت میں اُنھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔

02:28 27.5.2020

پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے

پاکستان میں لاک ڈاؤن تقریباً ختم ہونے اور لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کئے جانے کے سبب کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان مریضوں کی تعداد میں جن کی حالت نازک ہوتی ہے، جنہیں شدید بیمار کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر سلمان کاظمی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اسپتالوں میں آئی سی یو یونٹ بھرے ہوئے ہیں، بیڈز بھرے ہوئے ہیں۔ ایمرجنسی میں ان مریضوں کے لئے جگہیں مختص کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ باہر نکلنے والے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے اور اگر صورت حال اسی طرح رہی تو آئندہ دس سے پندرہ دن میں یہ تعداد بہت بڑھ سکتی ہے اور پھر دوبارہ لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں رہے گا، جس کا حکومت بھی عندیہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہم بات یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ جن لوگوں کو ان وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے، جن میں گلے کے اندر ٹیوب ڈالی جاتی ہے، ان کے بچنے کی شرح بہت کم ہے، جبکہ ان مریضوں کے بچنے کی شرح زیادہ ہے جنہیں ان وینٹی لیٹرز پر رکھا جاتا ہے، جس میں چہرے پر ماسک لگایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر کاظمی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور سے نوجوان جو باہر سے بیماری لے کر گھر آجاتے ہیں اور اپنے بزرگوں اور ان لوگوں کو لگاتے ہیں جو ہائی رسک گروپ میں ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG