- By سہیل انجم
بھارت میں کرونا سے 170 اموات، 6387 افراد میں وائرس کی تشخیص
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 170 افراد ہلاک اور 6387 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
بھارت میں کرونا کے مجموعی مثبت کیسز کی تعداد ایک لاکھ 51 ہزار 767 تک پہنچ چکی ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 4,337 ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 21 مارچ سے اب تک یومیہ لگ بھگ 6000 سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پانچ ریاستوں اترپردیش، بہار، جھارکنڈ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کرونا کیسز دو گنا ہو گئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں کو کھولنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں تمام تعلیمی ادارے مارچ کے وسط سے بند ہیں۔
برطانیہ نے 'ریمڈیسیور' کا تجرباتی استعمال شروع کر دیا
برطانیہ نے کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے 'ریمڈیسیور' کا انسانوں پر تجربہ شروع کر دیا ہے۔ اس کا اعلان منگل کے روز برطانیہ کی وزارتِ صحت نے کیا ہے۔
کرونا وائرس سے متعلق اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران، برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہین کوک نے بتایا کہ جب سے بحران شروع ہوا ہے، تب سے اب تک یہ تجرباتی دوا کرونا وائرس کے علاج کی جانب شاید سب سے اہم قدم ہے۔
ریمڈیسیور کو امریکی دواساز کمپنی 'گل ای ایڈ' نے تیار کیا ہے۔ امریکہ میں وبائی امراض کے امور سے متعلق قومی ادارے کے رضاکاروں پر اس کے تجربات کے مثبت نتائج آنے کے بعد، اس ماہ کے آغاز سے اس کا استعمال کرونا وائرس کے مریضوں پر کرنا شروع کیا ہے۔
جاپان نے بھی اس دوائی کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
- By ضیاء الرحمن
بھارت میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی
بھارت میں پھنسے پاکستانی شہری آج واہگہ کے راستے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستانی شہری کرونا وائرس کی وبا سے قبل بھارت گئے تھے۔
پاکستان اور بھارت نے 27 مئی کو خصوصی طور پر واہگہ اٹاری بارڈر کھولا ہے جس کے ذریعے بھارت کی مختلف ریاستوں میں پھنسے 179 پاکستانی واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان پہنچنے والے تمام شہری کرونا وائرس کی وبا سے قبل اپنے عزیز و اقارب کو ملنے اور مختلف کاموں کی غرض سے بھارت گئے تھے اور وہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث سرحدیں بند ہو جانے سے بھارت میں پھنس کر رہ گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان پہنچنے والے شہری بھارت کی ریاستوں مہاراشٹر، ہریانہ، اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور نیو دہلی میں قیام پذیر تھے۔
پاکستان پہنچے والے تمام شہریوں کو کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد محکمہ صحت کے حوالے کیا جائے گا جہاں اُنہیں 72 گھنٹوں کے لیے کرونا وائرس کے لیے بنائے مختلف قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا۔
پاکستان: کرونا سے متاثرہ طبی عملے کی تعداد 1753 تک پہنچ گئی
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے طبی عملے کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعداد 1,753 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نیشنل ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے اب تک ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 14 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے طبی عملے میں 947 ڈاکٹرز، 272 نرسز کے علاوہ نیم طبی عملے کے 534 ارکان شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 154 افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور 1,014 گھروں میں قرنطینہ ہیں جب کہ ملک بھر میں 569 ہیلتھ کیئر ورکرز صحت یاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔