- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں کرونا سے مزید ایک شخص کی موت
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس میں مبتلا ایک مریض دم توڑ گیا ہے جس کے بعد اس وبا سے وہاں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ تمام مریضوں کا تعلق مظفرآباد سے ہے۔
وادی میں وائرس کے شکار مریضوں کی مجموعی تعداد 219 تک پہنچ گئی ہے اور اب تک 99 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
- By محمد ثاقب
پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا اجرا کتنا فائدہ مند؟
پاکستان بھر میں گزشتہ ہفتے ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا اجرا کیا گیا ہے جس کا مقصد مریضوں کو موبائل فونز کے ذریعے ڈاکٹروں تک مفت رسائی فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں محفوظ طریقے سے اپنا علاج کرا سکیں۔
اس مقصد کے لیے ایک واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔ مریض اس نمبر پر ڈاکٹروں سے رابطہ کر کے گھر بیٹھے اپنا علاج کرا سکے گا۔
ٹیلی ہیلتھ سروس کو مستقل بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یعنی عالمی وبا ختم ہونے کے بعد بھی مریض اس سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔
اس سے قبل گھر بیٹھے تعلیم فراہم کرنے کے لیے ٹیلی ایجوکیشن نامی ایک منصوبہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ بچوں کو گھر بیٹھے تعلیم دینے کا یہ منصوبہ پاکستان ٹیلی ویژن کی مدد سے شروع کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی ہیلتھ پورٹل میں اب تک چار سے پانچ سو ڈاکٹرز رجسٹر ہو چکے ہیں۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹ کو رجسٹر کیا جائے جو گھر بیٹھے مریضوں کو مفت مشورے دے کر ان کے علاج کا وسیلہ بنیں۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی ویکسین کے انسانوں پر تجربات کا آغاز
جنوبی کرہ ارض میں کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے انسانوں پر اولین تجربات کا آسٹریلیا میں آغاز ہوگیا ہے۔ میلبرن اور برسبین میں اس تجربے میں 18 سے 59 سال کے 131 رضاکار شریک ہیں۔
ممکنہ ویکسین کو این وی ایکس کوو 2373 کا نام دیا گیا ہے اور اسے امریکی بایوٹیک کمپنی نوواویکس نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے ماہرین نے چین میں وبا پھوٹنے کے بعد جنوری میں دوا پر کام شروع کر دیا تھا۔ ویکسین کا مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور وائرس کو بے اثر کرنے والی اینٹی باڈیز کو موثر بنانا ہے۔
اگر ویکسین کے تجربات کامیاب رہے تو امید ہے کہ سال کے آخر تک اس کی 10 کروڑ اور آئندہ سال ڈیڑھ ارب خوراکیں فراہم کی جاسکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین معجزوں کے مانند ہیں اور آبادی کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ڈاکٹر پال گریفن وبائی امراض کے ماہر اور آسٹریلیا میں ویکسین کے تجربات میں شریک ہیں۔ انھیں توقع ہے کہ دوا کامیابی سے وائرس پر حملہ کرے گی اور چند ماہ میں دستیاب ہوجائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اینٹی باڈیز کی مختلف اقسام اور ان کی تعداد پر غور کیا، مریضوں کے بلڈ ٹیسٹ کرکے ان کا جائزہ لیا اور لیبارٹری میں بہت سے تجربات کیے تاکہ ظاہر ہوسکے کہ ویکسین وائرس کو بے اثر کردیتی ہے۔ جو کمپنی ویکسین بنارہی ہے وہ اس کی وسیع پیمانے پر پیداوار کی تیاری شروع کرچکی ہے۔ اگر ہم نے اسے محفوظ اور موثر ثابت کردیا تو ممکنہ طور پر اس سال کے آخر تک بڑی تعداد میں خوراکیں دستیاب ہوں گی۔
کرونا وائرس کے اثرات امریکی سینیٹ کے انتخابات پر بھی پڑ رہے ہیں
صدر اور کانگریس کی نشستوں کے لیے نومبر 2020ء اب زیادہ دور نہیں۔ مگر کرونا وائرس کی وجہ سے وہ روایتی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ سینیٹ میں اس بار کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی سیاسی مبصرین کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بہرحال، عالمگیر وبا کے ماحول میں اس انتخابی مہم کا انداز جدا گانہ ہوگا۔
امریکہ میں صدر کے انتخاب کے ساتھ سینیٹ کے ایک تہائی امیدواروں کا بھی چناو ہوگا اور اس کے نتائج امریکی سیاست میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہوں گے۔
اس وقت سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے، مگر ان کی برتری اتنی کم ہے کہ اگلے انتخاب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرنے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں اور ان کی ری پبلکن پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھتی ہے تو پھر صدر ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔
اس الکشن میں سب سے اہم لیکن نامعلوم عنصر کرونا وائرس ہے۔ تجزیہ کار یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ اگر اس سال موسمِ خزاں میں کرونا وائرس کی ایک اور لہر آگئی تو امریکی ووٹرز کا رجحان کس پارٹی کی طرف پلٹ جائے گا۔ ابھی تک جو جائزے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہوا ہے کہ کرونا وائرس نے ووٹرز کی تعداد پر اثر ڈالا ہے۔
اس الکشن میں چند ریاستیں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔