کرونا وائرس سے خیبر پختونخوا میں مزید دو ڈاکٹروں کی اموات
خیبر پختونخوا کے دو مزید ڈاکٹر مہلک کرونا وبا سے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ پشاور میں پولیس سروسز اسپتال کے سینئیر پیتھالوجسٹ ڈاکٹر اورنگزیب آج حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں کرونا وبا سے لڑتے ہوئے انتقال کر گئے۔
وہ کئی روز سے انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر تھے، لیکن جانبر نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر اورنگزیب کو نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اعظم اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ڈاکٹر محمد اعظم ڈسٹرکٹ اسپتال نوشہرہ میں شعبہ اطفال کے سربراہ رہ چکے ہیں اور وہ آج کل نوشہرہ میں نجی کلینک چلاتے تھے۔ ڈاکٹر محمد اعظم کو چارسدہ میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان نے ڈاکٹر اورنگزیب اور ڈاکٹر محمد اعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں سمیت فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے دیگر طبی عملے کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
امریکہ میں جاری مظاہروں سے کرونا وائرس کی ایک اور لہر کا خطرہ
امریکہ میں صحت کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے کرونا وائرس کا حملہ ایک بار پھر زور پکڑ سکتا ہے۔ یہ مظاہرے ایک افریقی امریکی جارج فلائیڈ کی پولس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ملک گیر سطح پر ہو رہے ہیں۔
حالیہ چند دنوں سے امریکہ کے کئی شہروں میں افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں شامل افراد کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ بہت کم مظاہرین ماسک پہنتے ہیں اور ایک دوسرے سے دوری کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔
چند لیڈر مظاہرین سے پر امن رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ اس طرح وہ اپنی زندگیوں کے لیے خود خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں مزید 60 اموات، دو ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس میں مبتلا مزید 60 مریض دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 1543 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے مزید 2964 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 72 ہزار 460 ہو گئی ہے جس میں سے 26 ہزار 83 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ناسا کا سپر کمپیوٹر کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں شامل
وائٹ ہاؤس نے سرکاری اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ایک کنسورشیم بنایا ہے جو کرونا وائرس کے علاج اور اس کی ویکسین کے سلسلے میں تحقیق میں مدد دے گا۔ یہ سپر کمپیوٹر شمالی کیلیفورنیا میں ناسا کے ریسرچ سینٹر میں نصب ہے۔
امریکی سرکاری ادارے اور نجی صنعتوں کا ایک کنسورشیم خلائی ادارے ناسا کے سپر کمپیوٹر کو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انسانی جسم میں وائرس کا کس طرح خلیوں سے ربط پیدا ہوتا ہے اور اس سلسلے جینیاتی عمل دخل کتنا ہے اور اس مرض کے علاج کے لیے کس قسم کی ادویات بنائی جا سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی دفتر نے بتایا ہے کہ اس میں نجی صنعتیں مثلاً آئی بی ایم، ہیولیٹ پیکارڈ انٹرپرائیز، ایمیزان، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کے ساتھ توانائی کے محکمے کی نیشنل لیبارٹریز، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور کئی یونیورسٹیاں بھی کام کر رہی ہیں۔