اٹلی نے یورپ سے سیاحوں کی آمد کی اجازت دے دی
اٹلی نے یورپ سے سیاحوں کی آمد پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔
گرمیوں کے آغاز پر یورپ سے بڑی تعداد میں سیاح اٹلی کا رُخ کرتے ہیں۔ تاہم کرونا وائرس کے باعث گزشتہ تین ماہ سے دیگر یورپی ممالک کی طرح اٹلی میں بھی پابندیاں اور بندشیں عائد تھیں۔
حکام خواہش مند ہیں کہ اٹلی کی سیاحت کی صنعت کو ایک بار پھر مثبت سمت میں گامزن کیا جا سکے۔
اٹلی یورپ کا پہلا ملک تھا جو کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ حکام نے وبا سے اب تک 33 ہزار سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
مارچ میں اٹلی میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد ہلاکتوں میں کمی آنا شروع ہوئی تھی۔
برازیل میں کرونا سے مزید 1262 ہلاکتیں
برازیل کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک روز کے اندر ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کے بہت زیادہ کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔ برازیل کے محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے باعث 1262 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن سے کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 31,199 ہو گئی ہے۔
برازیل میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 555,383 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد امریکہ کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں اب تک 18 لاکھ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں کرونا وائرس کے 6395,327 کیسز موجود ہیں جبکہ اموات کی تعداد 380,580 ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ چھ ہزار ہلاکتیں امریکہ میں ہوئی ہیں۔
ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوئکے نے ایک وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں کرونا وائرس دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے۔
ٹوکیو میں منگل کے روز 34 نئے کیسز کی نشاندہی ہوئی۔ کوئکے کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی تو وہ کاروبار دوبارہ بند کر دیں گی۔
جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد ہر دو ہفتوں میں دوگنا ہو جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں اس وقت کرونا وائرس کے 35,000 کیسز ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند کرونا وائرس کے نئے مراکز کا روپ اختیار کر رہے ہیں۔ تاہم بولیویا، میکسیکو اور وینزویلا میں اس ہفتے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 758 کیس رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 758 نئے کیسز کی اطلاع دی ہے جس کے ساتھ ملک میں کرونا مریضوں کی کل تعداد 17273ہو گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق اب تک وائرس سے 194افراد ہلاک ہو گئے ہیں
افغان وزارت صحت کے مطابق وائرس کے علاج کے لیے ایک مقامی حکیم کی تیار کردہ دوا میں افیم اور مورفین کا مرکب شامل کیا گیا ہے۔ نائب وزیر صحت ڈاکٹر واحداللہ مجروح نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایاکہ ان ادویات کی لیبارٹریوں میں جانچ کی جارہی ہے اور حکیم محمد الکزئی کی تیار کی ہوئی دوا کے استعمال سے متعلق عوام اور میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
قندوز صوبے کے پولیس سربراہ جنرل عبدل رشید بھی انفیکشن سے انتقال کر گئے ہیں۔
قطر ایئر ویز نے پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن معطل کر دیے
پاکستان نے بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کے لیے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کی اہم ایئر لائن قطر ایئر ویز نے پاکستان سے اپنا آپریشن عارضی طور پرمعطل کردیا ہے۔
سول ایوی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری اور ترجمان عبدالستار کھوکھر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطر ایئر ویز نے پاکستان کے لیے اپنا آپریشن ایک ہفتے کے لیے معطل کردیا ہے۔
عبدالستار کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا لیکن ممکنہ طور پر کسی بھی ایئر لائن کی اپنی آپریشنل وجوہات ہوسکتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنا آپریشن معطل کرنے کے مجاز ہیں۔
آپریشن معطل ہونے سے بڑی تعداد میں مسافر متاثر ہو رہے ہیں جو پاکستان میں لاک ڈاؤن اور بین الاقوامی فضائی آپریشن معطل ہونے کے بعد پھنس کررہ گئے تھے۔
راولپنڈی میں مقیم ایک مسافر وہاب یاسر نے کہا کہ وہ لاک ڈاؤن سے پہلے امریکہ جانا چاہتے تھے۔ لیکن فلائٹس بند ہوجانے کے بعد وہ پھنس کر رہ گئے اس کے بعد جو خصوصی پروازیں چلیں ان میں سوا لاکھ روپے کے ٹکٹ کے بجائے چار سے آٹھ لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے تھے۔
وہاب کا کہنا تھا کہ ٹکٹ مہنگا ہونے کے سبب اُنہوں نے اپنا سفر ملتوی کیا، لیکن دو روز قبل فلائٹ آپریشن بحال کے بعد اُنہوں نے اپنا ٹکٹ ری کنفرم کرایا تو ریٹرن ٹکٹ کی قیمت کے برابر اُنہیں ون وے ٹکٹ دیا گیا جس پر اُنہوں نے رضا مندی ظاہر کر دی۔
اُنہوں نے بتایا کہ پانچ جون کو اُن کی پشاور سے فلائٹ تھی جو اب دوبارہ ملتوی کر دی گئی ہے۔
فلائٹ آپریشن معطل کرنے سے متعلق قطر ایئر ویز سے رابطہ کیا گیا، لیکن اُنہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
البتہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان سے آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد میں کرونا وائرس کی نشاندہی کے بعد فلائٹ آپریشن معطل کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان نے بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے پاکستانی مسافروں کے لیے کرونا وائرس کی نئی پالیسی کا اطلاق کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان آنے والی پروازوں کے مسافروں کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ لینے کے بعد گھر بھیجنا شروع کردیا گیا ہے۔