- By محمد ثاقب
سندھ: نو ارکان اسمبلی وائرس سے متاثر
سندھ اسمبلی کے نو اراکین میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ساجد جوکھیو، سعدیہ جاوید، ڈاکٹر سہراب سرکی، منگلا شرما، تھرپارکر سے رکن صوبائی اسمبلی رانا ہمیر سنگ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے معظم عباسی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوکر گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔
اسی طرح ملیر سے رکن صوبائی اسمبلی غلام مرتضیٰ بلوچ کرونا میں مبتلا رہنے کے بعد منگل کو انتقال کر گئے تھے۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رکن اور صوبائی وزیر سعید غنی جب کہ جماعت اسلامی کے واحد رکن اسمبلی سید عبد الرشید کرونا کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسمبلی کے اجلاس سے قبل تمام اراکین کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس سے لڑنا نہیں بچنا ہے۔
پنجاب کے سرکاری دفاتر میں ماسک لازمی
حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں تمام افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ دفتری اوقات میں ماسک پہن کر رکھیں۔
وائرس کا پھیلاؤ، سندھ کے ضلع کشمور کی تین تحصیلیں سیل
سندھ کے ضلع کشمور میں 100 سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ضلع کی تینوں تحصیلوں کو سیل کردیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرونا ٹیسٹ مثبت آنے والوں میں سے بڑی تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے جن کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔ ادھر صوبے بھر میں کیسز کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ یعنی 31 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع کشمور کندھکوٹ میں 13 کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اب تک اس ضلع میں اس وبا سے دو افراد کی ہلاکت بھی ہوچکی ہے۔ کرونا کے مثبت نتائج آنے والے بیشتر افراد گھروں ہی میں آئسولیٹ کیے گئے ہیں۔
ادھر ڈپٹی کمشنر کندھکوٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق سندھ وبائی امراض ایکٹ 2014 کے تحت دیے گئے اختیارات کے تحت کشمور تعلقہ کے تمام ٹاؤنز/تحصیلیں سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ان میں کشمور، کندھ کوٹ اور تنگوانی شامل ہیں۔ نوٹی فکیشن کے مطابق اس عمل کا مقصد کشمور میں کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنا ہے۔
انتظامی حکم کے مطابق پولیس اور رینجرز کو کہا گیا ہے کہ ان علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رکن سندھ اسمبلی اور ضلعی ٹاسک فورس برائے کرونا وائرس کے انچارج شبیر علی بجارانی کا کہنا ہے کہ کشمور کے تحصیل ہیڈ کوارٹرز سیل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان شہروں میں کم آئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تیزی سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ شبیر بجارانی کا کہنا ہے کہ کشمور میں کیسز بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر لوگوں نے احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔
ان کا کہنا ہے کہ کشمور، جیکب آباد اور ملحقہ علاقوں میں صورتِ حال خراب ہے، لیکن صوبائی حکومت اس سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ کشمور کے ساتھ منسلک ضلع جیکب آباد میں بھی 250 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں رکن سندھ اسمبلی سہراب سرکی بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ضلع میں بڑی تعداد میں ہندو مقیم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر تجارت سے منسلک ہیں۔ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان کراچی میں مقیم تھا۔ وہاں سے کشمور واپسی پر اس کے ساتھ سفر کرنے والے، خاندان کے دیگر افراد میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں ابھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ٹیسٹ نہیں کیے جا سکے ۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ ضلع میں کرونا ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے جبکہ اس کے ساتھ لوگوں کو یہ شعور دیا جائے کہ فی الحال اس سے بچاؤ کا طریقہ احتیاط ہے۔
واضح رہے کہ صوبے میں اب تک 31 ہزار سے زائد کرونا کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 555 افراد کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ صوبے میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 1824 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
کرونا وائرس، مظاہرے اور صدارتی انتخاب؛ امریکہ کو بیک وقت تین چیلنج درپیش
امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں موت پر پورے ملک میں احتجاج جاری ہے اور متعدد مقامات پر مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کرلی ہے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت شروع ہوئے ہیں جب پورا ملک پہلے ہی کرونا وائرس کی وبا سے نبرد آزما ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اقتصادی دباؤ اور بیروزگاری کی لپیٹ میں ہے۔
وائس آف امریکہ کی نامہ گار کیتھرین جیپسن نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ مظاہروں میں شریک لوگ ہزاروں کی تعداد میں ایک دوسرے کے قریب جمع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اس سے کرونا وائرس کی دوسری لہر جنم لے سکتی ہے۔
وائٹ ہاوس میں کرونا وائرس ٹاسک فورس کی سربراہ ڈاکٹر ڈیبورا برکس کا خیال ہے کہ وسیع بنیاد پر ٹیسٹ سے وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ موت کا شکار ہوچکے ہیں۔
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی دوران مظاہروں کی گونج میں نومبر کے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں آٹھ ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں ووٹرز نے پرائمری الیکشن میں منگل کے دن اپنا ووٹ ڈالا۔
مقامی لیڈروں سمیت بعض ریاستوں کے قائدین اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر کرونا وائرس نے، جیسا کہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے، موسم خزاں میں پلٹا کھایا تو پھر موجودہ حکمت عملی سے ہٹ کر کوئی متبادل طریقہ اختیار کرنا پڑسکتا ہے اور شائد بندش سے ہٹ کر کسی اقدام کی ضرورت ہو۔
ماہرین اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ بندشوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی سرگرمیوں میں روک لگ جانے سے پہلے ہی چار کروڑ سے زیادہ لوگ بیروزگاری کا شکار ہوچکے ہیں اور کانگریس میں ڈیموکرٹیک ارکان کا کہنا ہےکہ تین ٹریلین ڈالر کی امدادی رقم ناکافی ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک بڑے اور جرات مندانہ بل کی ضرورت ہے۔ ریپبلکنز اس معاملے میں توقف کی وکالت کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق، اس وقت امریکہ کو گویا تین اطراف سے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف کرونا کی ہولناک وبا ہے تو دوسری جانب درجنوں ریاستیں مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں اور پھر نومبر کے انتخابات کے پس منظر میں سیاسی اتھل پتھل الگ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔