رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:41 8.6.2020

پاکستان میں آکسیجن فراہمی کے آلات سے لیس ایک ہزار بستروں کے اضافے کی منصوبہ بندی

پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں اسپتالوں میں ایک ہزار بستروں کا اضافہ کیا جائے۔

ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ایک ہزار بستروں کا اضافہ رواں ماہ ہی کیا جائے گا جب کہ ان کے ساتھ آکسیجن فراہم کرنے کے آلات بھی منسلک ہوں گے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ایک ہزار بستروں میں سے 200 بستروں کا اضافہ کراچی کے اسپتالوں میں کیا جائے گا۔

19:23 8.6.2020

بلوچستان: بین الاصوبائی ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی گئی

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کو حفاظتی تدابیر کے ساتھ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

پیر کو کرونا وائرس کے حوالے سے درپیش صورت حال سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے لیاقت شاہوانی نے کہا کہ کار میں صرف تین سواریاں سفر کر سکیں گے اگر خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح مسافر ویگن میں 23 کے بجائے صرف 8 مسافر سفر کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 6516 ہو گئی ہے جب کہ محکمہ صحت کے حکام نے 54 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ فاطمہ جناح جنرل چیسٹ اسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے جدید مشینری لگا دی گئی ہے جہاں اب 500 سے 1000 تک یومیہ ٹیسٹس کی گنجائش موجود ہے۔ اس سے قبل یہ ٹیسٹ اسلام آباد اور لاہور سے کرائے جاتے تھے۔

لیاقت شاہوانی نے مزید کہا کہ بلوچستان کے اکثر لوگ حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے جس سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

19:52 8.6.2020

سپریم کورٹ نے ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے کا حکم واپس لے لیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عید سے قبل ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے سے متعلق دیا گیا حکم واپس لے لیا جب کہ وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے کرونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے تاحال کرونا وائرس سے تحفظ سے متعلق قانون سازی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے متعلق قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے۔ جس کا اطلاق پورے ملک پر ہو۔ ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں۔ چین نے بھی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جب کہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کرونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ کرونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے۔ آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا۔ ایک لاکھ سے زائد کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

مزید جانیے

19:54 8.6.2020

فلپائن: طلبہ کی اسکولوں میں واپسی کرونا ویکسین سے مشروط

فلپائن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کرونا وائرس کی ویکیسین دستیاب نہیں ہوتی، بچوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فلپائن کے وزیرِ تعلیم لیونور برائنس نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلپائن کے صدر کے احکامات کے مطابق ویکسین کی دستیابی تک بچوں کو اسکولوں میں بالمشافہ تعلیم دیے جانے کا سلسلہ شروع نہیں کیا جائے گا۔

فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر طلبہ کا تعلیمی سال ضائع بھی ہو تو بھی انہیں اس وبا سے بچنے کے لیے اسکول نہیں جانا چاہیے۔

فلپائن کے وزیرِ تعلیم نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکیسین کی دستیابی تک ٹی وی یا انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG