دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں
ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے باعث کرونا وائرس سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئی ہیں۔
لندن کے 'امپیرئل کالج' کی تیار کی گئی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور غیر ضروری کاروبار سمیت aسکول بند کرنے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 11 ممالک میں کم از کم 30 لاکھ جانیں بچائی گئی ہیں۔
رپورٹ میں ان ممالک میں آسٹریا، بیلجیم، برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، اسپین، سوئیڈن اور سوٹزرلینڈ شامل کیے گئے ہیں۔
امریکہ میں کیے گئے ایک اور جائزے میں بتایا گیا ہے کہ چین، فرانس، ایران، اٹلی، جنوبی کوریا اور امریکہ میں لاک ڈاؤن کے ذریعے 53 کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔
تاہم عالمی ادارہ صحت نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یورپ میں صورت حال بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم دنیا کے دیگر بہت سے حصوں میں کرونا وائرس کے اثرات سنگین ہو گئے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایک لاکھ 36 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک دن میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 75 فی صد نئے کیسز کی تصدیق 10 ممالک میں ہوئی ہے جو زیادہ تر لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا میں ہیں۔
- By سہیل انجم
بھارتی سپریم کورٹ کا مزدوروں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا حکم
بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ دوسری ریاستوں میں جا کر کام کرنے والے یومیہ مزدوروں کی شناخت کی جائے اور 15 دن کے اندر انہیں ان کے گھروں کو بھیجا جائے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر مزدوروں کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات بھی واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ آبائی ریاستوں میں پہنچنے والے مزدوروں کی فہرستیں بنائی جائیں اور ان کے کاموں کا اندراج کیا جائے جب کہ لاک ڈاون کے بعد ان کے لیے فلاحی اسکیموں کا تعین کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ مزدوروں سے ٹرین یا بس کا کرایہ وصول نہ کیا جائے جب کہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔
پاکستان نے یومیہ 25 ہزار کے قریب ٹیسٹ کرنے کی استعداد حاصل کر لی
پاکستان میں یومیہ ٹیسٹ کرنے کی استعداد 25 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 ہزار 620 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد ملک میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں تیزی سے اضافہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں ٹیسٹ کرنے کے لیے نئی لیبارٹریاں بنائی جا رہی ہیں جب کہ پہلے سے قائم لیبارٹریز میں ٹیسٹ کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ امریکہ میں دو کروڑ 21 لاکھ، روس میں ایک کروڑ 32 لاکھ، برطانیہ میں 57 لاکھ جب کہ بھارت میں 49 لاکھ کیے گئے ہیں۔
پاکستان دنیا میں ٹیسٹ کرنے کے لحاظ سے 25ویں جب کہ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے 15ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں حکام نے ایک لاکھ 8ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔
- By ضیاء الرحمن
عالمی ادارہ صحت کی پنجاب میں کرونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہونے پر تشویش
عالمی ادارہ صحت نے پنجاب حکومت کو خط لکھتے ہوئے صوبے میں کرونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مریضوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کم از کم دو ہفتے کے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ صوبے میں کرونا کے روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ ہونے چاہیئیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھنا خطرے کی بات ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہی روزانہ ایک ہزار کیسز رپورٹ ہو رہے تھے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد روزانہ مریضوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لکھے گئے مراسلہ پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ خط میں ہدایات کے مطابق کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج اور بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ان کے بقول پنجاب میں کرونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹس کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بارہ ہزار تک بڑھا دی گئی ہے۔
یاسمین راشد نے بتایا کہ پنجاب میں کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو شاید آئندہ چند روز میں بند کر دیا جائے گا۔
یاسمین راشدنے مزید کہا کہ وائرس کے باعث پنجاب میں سب سے متاثر ہونے والا شہر لاہور ہے۔ جہاں 19ہزار 300 افراد وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔