کرونا وائرس سے بچنے کے لیے یہودیوں نے اسرائیل جانا شروع کر دیا
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے گزشتہ چند مہینوں میں جان و مال کے نقصان کی شکل میں جو تباہی مچا رکھی ہے، وہ تقریبا سو سال کے عرصے میں ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پہلی عالمی جنگ کے بعد اسپینش فلو کی وبا میں کروڑوں افراد کی جانیں تلف ہوئی تھیں۔
کرونا کی وبا کے اثرات کو معاشرتی زندگی میں بھی شدید طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک دلچسپ پہلو جو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اب بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں سے نقل مکانی کر کے اسرائیل میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں کرونا وائرس سے نہایت کم تعداد میں ہلاکتوں کی خبریں ملی ہیں۔ اسرائیل نے سیاحوں کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن وہ ہجرت کر کے آنے والے یہودیوں کو وہ نقل مکانی کی اجازت دے رہا ہے۔
سعودی عرب میں کرفیو کا خاتمہ، 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی برقرار
سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک میں گزشتہ تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن اب ختم کیا جا رہا ہے اور اتوار سے کاروبار اور دیگر اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' نے وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی عرب میں اتوار کی صبح چھ بجے سے کرفیو ختم ہو جائے گا۔ تاہم، زائرین کی آمد، بین الاقوامی سفر اور پچاس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندیاں بدستور لاگو رہیں گی۔
مارچ میں سعودی سلطنت نے کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں پابندیاں عائد کی تھیں جب کہ بہت سے شہروں اور قصبوں میں 24 گھنٹوں کے لیے کرفیو عائد کیا گیا تھا۔
کرونا کے باعث پانچ ماہ سے فیملی سے دُور شعیب ملک کی چھٹی منظور
پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک کی دورہ انگلینڈ شروع ہونے سے قبل اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں دیر سے ٹیم میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔
شعیب ملک کرونا وائرس کی وبا کے سبب گزشتہ پانچ ماہ سے اپنی اہلیہ بھارتی ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا اور بیٹے سے نہیں مل سکے تھے۔
شعیب ملک نے پی سی بی سے انگلینڈ کے خلاف سیریز شروع ہونے سے قبل کچھ دنوں کی چھٹی کی درخواست کی تھی جسے پی سی بی نے منظور کر لیا۔
پاکستان دورہ انگلینڈ کے دوران اگست اور ستمبر میں تین ٹیسٹ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلے گا۔
کرونا وبا کی وجہ سے مہاجرین کی صورتِ حال بدتر ہو رہی ہے: اقوام متحدہ
مہاجرین کے عالمی دن کے موقعے پر اقوام متحدہ کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا سے دنیا بھر میں مہاجرین کے مسائل مزید بدتر ہوں گے۔ لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد کو صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ لوگ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
ادارے کے اندازے کے مطابق، انہتر اعشاریہ پانچ ملین لوگ تنازعات اور پر تشدد حالات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تیس ملین مہاجرین دوسرے ایسے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جن حالات میں مہاجرین رہ رہے ہیں، ان کی وجہ سے ان کی صحت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور یہ کرونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔