نئے معمولات کے ساتھ کاروبار کا تجربہ کیسا ہے؟
کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اور پھر محدود سرگرمیوں کے نتیجے میں کاروباروں میں 50 فی صد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی قواعد و ضوابط پر عمل کرنے سے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے کاروبار کرنا عوام کے لیے کیسا تجربہ ثابت ہو رہا ہے؟ لاہور سے ضیاء الرحمٰن کی رپورٹ
'ڈیکسا میتھازون کرونا وائرس کے کم متاثر مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے'
برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈیکسا میتھا زون نامی دوا کے ذریعے کرونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے تاہم کچھ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال دو دھاری تلوار ہے۔
تحقیق کے مطابق ڈیکسا میتھا زون کرونا وائرس میں مبتلا ایسے مریضوں کو ہلاک ہونے سے بچا سکتی ہے۔ جو کرونا وائرس سے شدید متاثر ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں دِقت محسوس کر رہے ہوں یا اس مہلک وبا سے متاثرہ مریض وینٹی لیٹر کے سہارے زندہ ہوں۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کے شکار اگر 25 مریض آکسیجن پر ہوں تو ان میں ایک مریض جب کہ وینٹی لیٹر پر موجود 8 مریضوں میں سے ایک مریض کی جان ڈیکسا میتھا زون کے ذریعے بچائی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا برطانوی تحقیق پر ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان میں ماہرین کی کمیٹی کرونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے ڈیکسا میتھا زون کے استعمال پر غور کرے گی۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈیکسا میتھازون کے استعمال کے بارے میں خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیکسا میتھازون کو کرونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں خاص طور پر جو وینٹی لیٹر پر ہیں، ان کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ کم متاثر مریضوں کےلیے یہ دوا خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاکتوں میں اضافہ، اموات 20 ہو گئیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 32 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ حکام نے مزید ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کشمیر میں وائرس سے اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہین۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 12 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 348 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت عامہ کی جانب سےجاری کردہ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک 845 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کئی افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد 477 مریض زیرِ علاج ہیں۔
کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ویت نام کی تاریخی کامیابی
دس کروڑ کی آبادی والے ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا۔ جب کہ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور وسائل محدود ہیں۔ اب دو ماہ سے اس ملک میں کرونا کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا
ویت نام میں آج بھی اگر آپ کسی کیفے میں داخل ہوں تو دروازے پر کھڑا سیکیورٹی گارڈ آپ کے ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سپرے کرے گا، اس طرح پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننے کی درخواست کی جائے گی۔
یہ عمل بلا تخصیص ایک ایسے ملک میں جاری ہے جہاں کرونا وائرس سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا ، جہاں دو مہینے سے کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
یہ بات سبھی کے لیے حیرت انگیز ہے کہ دس کروڑ گنجان آبادی والے اس ملک میں کرونا کے ہاتھوں ایک شخص بھی نہیں ہلاک ہوا، ان تحیر کن اعداد و شمار سے یہ بحث ضرور شرع ہوئی کہ ایک پارٹی کی حکومت والے ملک میں سارا ڈیٹا سامنے نہیں آیا۔ چین اور ایران میں یک جماعتی آمریت قائم ہے اور ان ملکوں کے بارے میں شک کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اموات کی تعداد کو چھپایا، مگر نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے آزاد معاشروں میں، جس طرح کرونا پر قابو پایا گیا، اس پر تو کسی کو شبہ نہیں۔