بھارت میں 14 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 14,933 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ وبا کے شکار 123 افراد کی موت ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا کے مثبت کیسز کی تعداد چار لاکھ 40 ہزار 215 اور اموات کی تعداد 14011 ہو گئی ہے۔ اب تک ملک بھر میں دو لاکھ 48 ہزار سے 189 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا اترپردیش کے کانپور میں واقع لڑکیوں کے ایک شیلٹر ہوم میں 57 لڑکیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔
قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس سلسلے میں از خود کارروائی کرتے ہوئے اتر پردیش کی حکومت اور پولیس سربراہ کو نوٹس ارسال کیا ہے اور چار ہفتوں کے اندر جواب دینے کا کہا ہے۔
سیاسی رنگ دینے سے کرونا سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے لیڈر شپ کا نہ ہونا کرونا سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینم نے یہ گفتگو پیر کو دبئی میں ہونے والی عالمی حکومتوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے نمٹنے کے لیے دنیا کو قومی اتحاد اور عالمی یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن عالمی وبا کو سیاسی رنگ دینے سے اس یک جہتی اور وبا سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا کہ اس وقت ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ کرونا وائرس نہیں ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی یک جہتی اور بین الاقوامی لیڈر شپ کا نہ ہونا زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ملک یا حکومت عالمی وبا کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کرونا وائرس کے معاملے پر امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور عالمی ادارۂ صحت پر سخت تنقید کی تھی۔ امریکی صدر نے چین کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کرونا وائرس ووہان کی ایک لیبارٹری سے پھیلا ہے۔ چین ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
'کرونا کے ساتھ رہنا ہے، طرزِِ زندگی تبدیل کرنا ہو گا'
وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نتائج 15 روز بعد آنا شروع ہوں گے۔ لوگوں نے عید کے دنوں میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا۔ غصہ آتا ہے جب ہر بندہ اٹھ کر کہتا ہے کہ حکومت فیل ہو گئی۔ پنجاب میں کرونا کی صورتِ حال اور انتظامات کے بارے میں جانیے ڈاکٹر یاسمین راشد کی زبانی
خیبر پختونخوا کے 244 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن، پانچ لاکھ لوگ گھروں تک محدود
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر حکومت نے پشاور سمیت کئی اضلاع میں رہائشی علاقے 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کی حکمتِ عملی کے تحت سیل کر دیے ہیں۔
صوبے کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں ایس او پیز کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
حکام نے کرونا کے کیسز میں اضافے کے بعد پشاور کے 14 علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ مردان، نوشہرہ، دیر، ہری پور، سوات، چار سدہ، مالاکنڈ، باجوڑ، صوابی، ڈیرہ غازی خان اور دیگر اضلاع کے متعدد علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔
ان علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ضروری اشیا اور میڈیکل اسٹورز کے علاوہ دیگر تمام دکانیں بند کی گئی ہیں۔
مجموعی طور خیبر پختونخوا کے 244 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کُل 2305 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد پانچ لاکھ 37 ہزار افراد گھروں تک محدود ہیں۔
خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبے میں کرونا کے مریضوں کی مجموعی 22 ہزار 633 ہے جب کہ 843 اموات ہو چکی ہیں۔ صوبے کے مختلف اسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ 805 مریض داخل ہیں جن میں سے 324 کی حالت تشویش ناک جب کہ 77 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔