- By نوید نسیم
پلازمہ تھراپی کرونا کے کن مریضوں کے لیے مفید ہے؟
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کا پلازمہ تھراپی کے ذریعے آزمائشی بنیادوں پر علاج کیا جا رہا ہے۔ کیا پلازمہ تھراپی سے کرونا کا ہر مریض صحت یاب ہو سکتا ہے؟ صحت یاب ہونے والے مریض سے پلازمہ کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور کیا پلازمہ عطیہ کرنے والے کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ جانتے ہیں ڈاکٹر فریدون جواد سے۔
- By نوید نسیم
پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس کا علاج کتنا کامیاب؟
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج پلازمہ تھراپی سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کرونا وائرس سے متاثرہ ہر مریض کے لیے موثر نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ صرف ان مریضوں کا علاج ممکن ہے جو 'سیویئر اسٹیج' پر ہوں۔ جو مریض اس وبا سے ‘کریٹیکل اسٹیج’ پر پہنچ چکے ہوں پلازمہ تھراپی کے ذریعے ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔
پلازمہ تھراپی کے لیے درکار پلازمہ اور اس میں موجود ‘اینٹی باڈیز’ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ہر فرد سے حاصل کردہ پلازمہ میں اینٹی باڈیز موجود ہوں۔ تاہم پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہوتے اور یہ عمل 30 سے 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے آزمائشی بنیادوں پر علاج کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان میں پلازمہ تھراپی سے متعلق کچھ غلط فہمیاں اور ابہام پائے جاتے ہیں۔ جنہیں دور کرنے کے لیے وائس آف امریکہ نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں شعبۂ فزیالوجی اور پلازمہ تھراپی ٹرائل کے سربراہ ڈاکٹر فریدون جواد سے بات کی ہے۔
کینیڈا: سماجی فاصلہ قائم رکھنے کی انوکھی ترکیب
کرونا وائرس کے حملے کی شدت کا بلڈ گروپ کیا تعلق ہے؟