سینٹرل جیل پشاور کے 11 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق
خیبر پختونخوا کے سب سے بڑی سینٹرل جیل پشاور کے 11 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کچھ قیدیوں کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔
خیبر پختونخوا جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل خالد عباس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے والے قیدیوں کو پولیس کے سروسز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول تمام مریضوں کی حالت تسلی بخش ہے۔
انہوں نے کہا کہ 20 قیدیوں کا ٹیسٹ کیا گیا تھا جن میں سے 11 میں 'کووڈ 19' کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ دیگر نو کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔
خالد عباس نے کہا کہ پشاور سمیت صوبے کی تمام جیلوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تدفین کے ایس او پیز میں نرمی
حکومتِ پنجاب نے کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے طریقۂ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے قواعد و ضوابط میں قدرے نرمی کر دی ہے جس کے بعد میت کے ورثا اپنے پیاروں کا چہرہ دیکھ سکیں گے۔
اِس سلسلے میں سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر محمد عثمان یونس نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ سیکرٹری صحت کے مطابق تدفین سے متعلق نئے طریقۂ کار کی منظوری وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے انسدادِ کرونا کے اجلاس میں دی گئی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی میت کو غسل دیا جا سکے گا۔ لوکل گورنمنٹ کی تربیت یافتہ ٹیمیں تمام حفاظتی انتظامات کے ساتھ میت کو غسل دیں گی۔
محکمۂ صحت کے مراسلے کے مطابق مرد اور خواتین کی میت کو غسل دینے کے لیے متعلقہ جنس کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں ہوں گی جب کہ ورثا بھی مکمل حفاظتی لباس پہن کر غسل دینے کے عمل میں شریک ہو سکیں گے۔
کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے جنازے میں ورثا کے علاوہ رشتہ دار بھی شامل ہو سکیں گے۔
نئے قواعد و ضوابط کے مطابق میت کی تدفین کے لیے تابوت کی لازمی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے اور میت کا فاصلے سے آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔لیکن میت کو حفاظتی لباس پہنے بغیر براہ راست چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔
کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد اینٹی باڈیز ختم ہو جاتی ہیں: ماہرین
ملائیشیا میں تعلیمی ادارے کھلنا شروع