کرونا سے متعلق حکومت کو کنفیوژن ہے نہ میرے کسی بیان میں تضاد: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق حکومت کسی کنفیوژن کا شکار نہیں۔ ہم مکمل لاک ڈاؤن کرتے تو بہت نقصان ہوتا، اس لیے کرونا سے متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق میرے کسی بیان میں تضاد نہیں، کوئی ایسا بیان دکھا دیں جس میں تضاد ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے بیانات میں مستقل مزاجی رہی ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے اور نیوزی لینڈ کے حالات مختلف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی لاک ڈاؤن کے نقصانات برداشت نہیں کر سکتے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم نے ٹائیگر فورس کے کارکنوں سے ملاقات کی اور انہیں لوگوں کو ایس او پیز سے متعلق آگاہی دینے کی ہدایت کی۔
عمران خان نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیز کی پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہو سکے۔ وزیرِ اعظم نے ٹائیگر فورس کے کارکنوں کو کہا کہ لوگوں کو احتیاطی اقدامات پر عمل درآمد اور اس کی اہمیت سے متعلق سمجھانا بہت ضروری ہے۔ اگر لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے تو اسپتالوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
کاروبار کھل رہے ہیں، کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس سے گزشتہ دو ماہ کے دوران وبا پر قابو پانے کی کوششیں رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔ اس وجہ سے مختلف ممالک کی حکومتیں اور کاروبار نئی پابندیاں لگارہے ہیں۔
انڈونیشیا میں جمعرات کو کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی۔ لیکن معاشی دباؤ کی شکار حکومت کاروبار کھولنے کی اجازت دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں محکمہ صحت کے حکام کا ارادہ ہے کہ وائرس سے زیادہ متاثر علاقوں میں گھر گھر جاکر ایک لاکھ ٹیسٹ کریں۔ کیسز میں اضافے سے ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی حکام گھر گھر جاکر اسکریننگ کریں گے۔ شہر میں 70 ہزار مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے اور اسپتال دباؤ کا شکار ہیں۔ فوجی اہلکار ٹرین کی بوگیوں میں عارضی اسپتال بناکر علاج معالجہ فراہم کررہے ہیں۔ بھارت میں جمعرات کو 16922 کیسز سامنے آئے جس کے بعد کل تعداد پونے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ملک میں لگ بھگ 15 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔
یورپی اقوام نے یکم جولائی سے اپنی مشترکہ سرحدیں کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے اور غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے پابندیاں اٹھانے پر غور کررہی ہیں۔ یونان میں ہوابازی کے حکام علاقائی ہوائی اڈوں کے دورے کررہے ہیں جہاں پہلی تاریخ سے بین الاقوامی پروازیں بحال ہوجائیں گی۔
امریکی شہریوں کو مزید چند ہفتے یورپی یونین میں داخلے کی اجازت ملنے کی امید نہیں، کیونکہ امریکہ میں وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یورپی شہریوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔
افریقہ سینٹر فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق، ایک روز پہلے کے مقابلے میں دس ہزار کیسز کا اضافہ ہوا۔ افریقی ڈی سی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ براعظم میں وبا کا پھیلاؤ تیز ہورہا ہے جبکہ ٹیسٹ اور علاج کی سہولتیں سنگین حد تک کم ہیں۔ کئی افریقی ممالک فیس ماسک اور دوسری حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی نے ایک مہینے سے جاری رات کا کرفیو ختم کردیا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ ماسک پہنا جائے اور سماجی فاصلے برقرار رکھا جائے تو نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔
چین کے دارالحکومت میں دو سو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ اس کے بعد ملک بھر میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیے گئے۔ گزشتہ روز 19 نئے کیسز معلوم ہوئے۔
جنوبی کوریا میں جمعرات کو 28 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور وہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہے۔ نئے کیسز میں سے بیشتر کاروبار، کلب اور عبادت گاہیں کھلنے کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد فروری اور مارچ کے یومیہ کیسز کی تعداد سے خاصی کم ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 59 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات اور کیسز کی تعداد میں غیر معمولی اضافے اور کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو 60 اور بدھ کو دوگنا سے زیادہ یعنی 148 اموات کے بعد جمعرات کو نصف سے کم یعنی 59 اموات رپورٹ ہوئیں۔
24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 21 ہزار ٹیسٹ کیے گئے اور 2775 مثبت آئے۔ چند دن پہلے تک دن بھر میں اوسطاً 30 ہزار ٹیسٹ کیے جارہے تھے۔ لیکن، نامعلوم وجوہ پر ان کی تعداد کم کردی گئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق، جمعرات کو صوبے میں صرف 546 کیسز سامنے آئے اور 27 مریضوں کا انتقال ہوا۔ ایک دن پہلے صوبے میں 82 اموات ہوئی تھیں جو ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق 1098 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور 17 مریض دم توڑ گئے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 416 افراد وائرس میں مبتلا ہوئے اور 10 اموات ہوئیں۔
بلوچستان میں 129 ٹیسٹ مثبت آئے اور ایک مریض چل بسا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کے اعدادوشمار میں 4 اموات کا اضافہ کیا۔ گلگت بلتستان میں کسی مریض کا انتقال نہیں ہوا لیکن 33 نئے کیسز کا علم ہوا۔
ملک میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 3962 اور صحت یاب ہوجانے والوں کی تعداد 83704 ہے۔ سب سے زیادہ اموات پنجاب میں 1629 اور سب سے زیادہ شفایاب سندھ میں 40696 ہیں۔
پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 195192 ہوچکی ہے جو دنیا میں 12ویں بڑی تعداد ہے۔ میکسیکو میں مریضوں کی تعداد 196847، جرمنی میں 193465 اور ترکی میں 193115 ہے۔
کرونا وائرس کے اثرات صحت یابی کے بعد کتنا عرصہ باقی رہتے ہیں؟
فی الحال کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے اثرات کتنے عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک نئی وبا ہے اور سائنس دانوں کے پاس اس کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ وہ ابھی تک اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اب تک اس عالمی وبا کے بارے میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ ان لوگوں کی جانب سے آیا ہے جو اس میں مبتلا ہوئے۔ کوویڈ 19 سے نجات پانے کے بعد اور کرونا ٹیسٹ نیگیٹو آنے بعد بھی ان میں کئی علامتیں ہفتوں اور مہینوں تک برقرار رہیں اور کرونا سے صحت یابی کے بعد اکثر لوگوں کا تجربہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
زیادہ تر لوگ وائرس کی لپیٹ میں آنے کے چند ہفتوں کے اندر تندرست ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں میں مرض کی علامتیں کافی دنوں اور ہفتوں تک برقرار رہتی ہیں، جس میں سب سے زیادہ عام تھکاوٹ، سردرد، انجانے خوف اور پریشانی کی کیفیت اور پٹھوں کا درد ہے، جو مرض ختم ہو جانے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
صحت یاب ہونے والے ایسے افراد جنہیں مرض کی شدت سے گزرنا پڑا اور انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ اور وینٹی لیٹر پر جانے کی ضرورت پڑی یا انہیں ڈائلاسس پر ڈالا گیا، انہیں بعد ازاں سنجیدہ نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا۔
بعض واقعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن لوگوں کو وبا کے دوران نمونیا ہوا تھا، ان کے پھپھڑوں میں زخم پڑ گئے۔ اسی طرح دل کے امراض، گردوں میں خرابیاں اور جگر کے افعال میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ کرونا سے صحت یابی کے بعد جن لوگوں میں یہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے بہت سوں میں یہ خرابیاں برقرار ہیں اور ان پیچیدگیوں کا علاج جاری ہے۔ اس کے متعلق اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس سے کب چھٹکارہ حاصل کر سکیں گے یا ان کے ساتھ ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔