رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:27 27.6.2020

کرونا وائرس کون کون سے اعضا کو متاثر کرتا ہے

کرونا وائرس صحت کے کتنے مسائل کا سبب بن رہا ہے، سائنس دانوں کو اب تھوڑا سا اندازہ ہونا شروع ہوا ہے۔ وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق مریضوں اور صحت کے ںظام پر ان مسائل کے اثرات برسوں برقرار رہ سکتے ہیں۔

اب تک عام خیال یہ تھا کی کرونا وائرس سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے لیکن اب ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ یہ پھیپھڑوں کے علاوہ دوسرے اعضا کو بھی متاثر کرتا ہے اور انھیں ناکارہ بنادیتا ہے۔

ڈاکٹر ایرک ٹوپول کیلی فورنیا کے اسکرپس ریسرچ ٹرانسلیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسے صرف سانس کا وائرس سمجھتے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ لبلبے پر بھی حملہ کرتا ہے۔ دل کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ جگر، گردوں اور دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ابتدا میں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا۔

سانس لینے میں مشکلات کے علاوہ کرونا وائرس کے مریضوں کا خون گاڑھا ہوجاتا ہے جس سے اسٹروک ہوسکتا ہے اور شدید سوزش کی وجہ سے کئی اعضا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ وائرس سے دماغی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں جن میں سردرد، چکر آنا، الجھن کی کیفیت اور سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونے کے علاوہ دماغی دورے بھی پڑسکتے ہیں۔

ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ ان مسائل سے صحت یابی سست، نامکمل اور مہنگی ثابت ہوسکتی ہے اور زندگی کے معیار پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

شکاگو میں نارتھ ویسٹرن میڈیسن اسپتال کی ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ کرونا وائرس کے وسیع اور متنوع اثرات انوکھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دل کے مریضوں کو انفلوئنزا ہوجائے تو پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اس کرونا وائرس میں حیران کن بات پھیپھڑوں کے علاوہ سامنے آنے والی بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔

ڈاکٹر سعدیہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس کے جو مریض بچ جائیں گے انھیں مستقبل میں اپنی صحت پر کافی وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ جو مریض انتہائی نگہداشت میں یا وینٹی لیٹر پر رہے، انھیں دوبارہ متحرک ہونے اور قوت حاصل کرنے میں طویل عرصہ لگے گا۔

ڈاکٹر سعدیہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں گزارے ہوئے ہر دن کے بدلے پرانی قوت حاصل کرنے میں کم از کم سات دن لگیں گے۔ اور جن لوگوں کی عمر زیادہ ہے، وہ شاید کبھی پہلے کی طرح صحت مند نہیں ہوپائیں گے۔

اگرچہ ڈاکٹروں کی توجہ پہلے ان کم مریضوں پر رہی جو بیماری کے شدید حملے کا شکار ہوئے لیکن اب وہ ان مریضوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جنھیں اسپتال میں داخل نہیں ہونا پڑا، لیکن کئی ماہ بعد بھی وہ مکمل شفایاب نہیں ہوئے۔

جے بٹلر امریکہ سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن میں وبائی امراض کے شعبے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے طویل المدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے کئی ٹیمیں تحقیق کررہی ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے جنھیں مسلسل تھکن کا سامنا ہے اور ان کا سانس پھول رہا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کب تک اس کیفیت میں مبتلا رہیں گے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہیلن سالسبری نے برٹش میڈیکل جرنل میں اس بارے میں ایک مضمون لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات دو سے تین ہفتوں میں ختم ہوجاتی ہیں لیکن دس میں سے ایک مریض میں یہ عرصہ زیادہ ہوتا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے کئی مریضوں کے سینے کے ایکسرے ٹھیک آنے اور سوزش کی علامات نہ ہونے کے باوجود ان کی صحت بحال نہیں۔

ڈاکٹر ہیلن نے لکھا کہ اگر آپ پہلے ہفتے میں تین دن پانچ کلومیٹر دوڑتے تھے اور اب ایک منزل سیڑھیاں چڑھ کر سانس پھول جاتا ہے، یا اگر آپ کو مستقل کھانسی کی شکایت ہے اور معمول کے کام کرنے پر زیادہ تھکن سوار ہوجاتی ہے تو خدشہ ہے کہ آپ کبھی پرانی صحت دوبارہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

نارتھ ویسٹرن میڈیسن میں دماغی امراض کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر آئیگور کورلنک نے مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انھیں معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کے جن مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا، ان میں سے نصف کو ذہنی مسائل درپیش ہیں۔ انھیں چکر آرہے ہیں یا دماغ حاضر نہیں، کسی بات پر توجہ دینے میں مشکل کا سامنا ہے، سونگھنے اور چکھنے کی حس متاثر ہے، تھکن ہے، پٹھوں میں درد ہے اور چند ایک کو دورے پڑے ہیں یا اسٹروک ہوا ہے۔

ڈاکٹر آئیگور کی تحقیق کے نتائج ایک طبی رسالے میں شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایسے مریضوں کے لیے ایک کلینک شروع کیا ہے تاکہ یہ جان سکیں کہ ان کے دماغی مسائل عارضی ہیں یا مستقل رہیں گے۔

03:34 27.6.2020

پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات چار ہزار ہو گئیں

پاکستان میں جمعہ کو کرونا وائرس سے مزید 72 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ملک میں مزید 3212 کیسز کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ ان میں دارالحکومت اسلام آباد کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں۔

پاکستان 22واں ملک ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچی ہے۔ ملک میں 198957 کیسز سامنے آچکے ہیں اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ ہفتے کو کیسز کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہوجائے گی۔

پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 1193 ٹیسٹ مثبت آئے اور 27 مریض دم توڑ گئے۔ سندھ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مزید 1150 افراد وائرس میں مبتلا ہوئے اور ٹھیک 27 ہی افراد چل بسے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 640 نئے مریضوں کا علم ہوا اور صوبے میں 11 اموات رپورٹ ہوئیں۔ بلوچستان میں 170 کیسز سامنے آئے اور 4 افراد کا انتقال ہوا۔

گلگت بلتستان میں 18 مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 41 کیسز کا پتا چلا جبکہ 3 ہلاکتیں ہوئیں۔

پاکستان میں مجموعی طور پر 4034 افراد وبائی بیماری کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ دوسری جانب 86215 افراد شفایاب بھی ہوئے ہیں۔

میکسیکو 11واں ملک ہے جہاں جمعہ کو 2 لاکھ کیسز مکمل ہوئے۔ پاکستان میں اس سے چند ہزار کیسز کم ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے جانی نقصان میں کافی زیادہ فرق ہے۔ میکسیکو میں 25 ہزار سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد لگ بھگ 97 لاکھ ہے جبکہ 4 لاکھ 91 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ امریکہ ساڑھے 24 لاکھ کیسز اور سوا لاکھ ہلاکتوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

10:25 27.6.2020

بھارت میں کیسز پانچ لاکھ سے متجاوز

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 17 ہزار سے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں مصدقہ مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

بھارت کی وفاقی وزارتِ صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں خصوصاً دارالحکومت نئی دہلی میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

بھارت وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ بھارت سے زیادہ کیسز امریکہ، برازیل اور روس میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ماہرین بھارت میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے سے زیادہ اموات کنٹرول کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بھارت میں اب تک وائرس سے لگ بھگ 16 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

11:39 27.6.2020

امریکہ میں ایک ہی دن کرونا کے 45242 کیس، کئی ریاستوں میں دوبارہ پابندیاں

امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور جمعے کو ملک میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 45 ہزار 242 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ امریکہ میں کیسز کی مجموعی تعداد 24 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔

امریکہ میں کیسز بڑھنے کے بعد کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ بھی موخر کر دیا ہے۔

ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ریاست میں بارز اور ریستوران جلد بند کرنے اور لوگوں کی تعداد نصف کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ فلوریڈا میں بھی بارز کی حدود میں شراب کی سروس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس پر شراب خانوں کے مالک ناراض ہیں۔

بارز مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت کے اچانک فیصلے سے اُنہیں بڑے مالی خسارے کا سامنا ہے۔ ایک بار مالک کا کہنا تھا کہ اُس نے ویک اینڈ کے لیے ہزاروں ڈالر کی خریداری کی تھی لیکن اب حکومت کے اس فیصلے سے اُنہیں مالی خسارے کا سامنا ہے۔

ریاست فلوریڈا میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 8942 کیس رپورٹ ہونے کے بعد نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم کا کہنا ہے کہ لاس اینجلس کی امپریل کاؤنٹی کے بعض علاقے وائرس کا گڑھ بن چکے ہیں لہذٰا یہاں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG