امریکن ایئر لائن اپنے جہازوں کی تمام سیٹیں بک کرے گی
امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اور ایسے میں امریکہ کی فضائی کمپنی، امریکن ایئر لائنز، آئندہ ہفتے سے اپنے ہوائی جہازوں پر سماجی فاصلے کی قدغن کوختم کر رہی ہے اور اب اپنے جہازوں کی تمام سیٹیں بک کیا کرے گی۔
امریکن ایئر لائنز کا یہ اقدام، یونائٹد ایئر لائنز کی پالیسی سے میل کھاتا ہے، لیکن اپنے دیگر حریفوں برعکس ہے، جنہوں نے اپنے جہازوں پر سیٹوں کی بکنگ کو محدود رکھا ہے، تا کہ مسافروں کے درمیان فاصلہ رکھ کر، وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
جمعہ کے روز، فضائی کمپنی کا کہنا تھا اگر اُن کے جہاز کی تمام سیٹیں بک ہونے کا امکان ہوا تو وہ اس حوالے سے اپنے صارفین کو مطلع کرتے رہیں گے، اور وہ بغیر مزید معاوضہ لئے، انہیں پرواز تبدیل کرنے کی بھی اجازت دیں گے۔ ایئرلائن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جہاز میں جگہ ہوئی تو اپنے مسافروں کو سیٹ تبدیل کرنے کی بھی اجازت دیں گے۔
اس سال اپریل سے لیکر اب تک، امریکن ایئر لائنز اپنے جہاز کی کل سیٹوں کی پچاسی فیصد تک بکنگ کرتی تھی، اور درمیان کی سیٹیں خالی چھوڑ دیتی تھی۔ تاہم، آئندہ بدھ کے روز سے، ایئرلائن جہاز کی تمام سیٹیں بک کرے گی۔
برازیل میں فٹبال اسٹیڈیم ڈرائیو ان سینما میں تبدیل
ساحلی شہر ساؤ پولو کا پلمئیرس فٹبال کلب کے اسٹیڈیم میں تین سو کاروں کی گنجائش ہے۔
فٹبال ٹیم کے ایک پرستار الیسینڈرو ٹیساری نے کہا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ اسٹیڈیم میں فلم دیکھے گا۔
برازیل میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سینما گھر ان اولین شعبوں میں شامل تھے جنھیں کام بند کرنا پڑا۔ یہ واضح نہیں کہ مزید سینما کھلیں گے یا نہیں کیونکہ وائرس بدستور متحرک ہے۔
فلمیں دکھانے کے علاوہ اسٹیڈیم میں اسٹینڈ اپ کامیڈی کے پروگرام اور بچوں کے تھیٹر بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔
اسٹیڈیم کی انتظامیہ نے بدھ کو انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کا آغاز کیا اور 19 جولائی تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک کار میں چار سے زیادہ افراد کو آنے کی اجازت نہیں اور 23 سے 100 ڈالر تک کے ٹکٹ دستیاب ہیں۔
اس سے پہلے امریکہ، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں بھی نئے ڈرائیو ان سینما کھولے گئے ہیں کیونکہ عام سینما گھروں کے مقابلے میں ان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
امریکہ کے بعد برازیل دنیا میں کرونا وائرس سے بدترین متاثر ملک ہے جہاں 12 لاکھ کیسز سامنے آچکے ہیں اور 55 ہزار سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کرونا کے باعث سوات کی سوغات 'ٹراوٹ' کا کاروبار کرنے والے بھی پریشان
محمد رشيد 1988 سے سياحت کے لیے مشہور خيبر پختونخوا کی پُر فضا وادی سوات ميں ٹراوٹ مچھلی کے کاروبار سے منسلک ہيں۔ لیکن گزشتہ چند ماہ سے کرونا وائرس کے باعث اُن کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔
محمد رشید کی عمر 67 سال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نجی سطح پر سوات ميں سب سے پہلے ٹراوٹ کی افزائش کا کام شروع کيا تھا۔
وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے محمد رشید نے بتايا کہ رواں سال ٹراوٹ مچھلی کی پيداوار بہت اچھی ہوئی ہے۔ اس وقت صرف سوات ميں ايک لاکھ کلو سے زائد ٹراوٹ مچھلی دستياب ہے۔
ان کے بقول کرونا کے سبب خريدار کم ہونے کی وجہ سے ٹراوٹ فارمز کے مالکان اور یہاں کام کرنے والے افراد شديد مالی بحران کا شکار ہو گئے ہيں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوات ميں 150 سے زيادہ ٹراوٹ فارمز ہيں جب کہ ہر سال اس مچھلی کی افزائش اور فروخت ميں اضافہ ہوتا ہے۔
محمد رشيد جو 'سوات فش فارمز ايسوسی ايشن' کے صدر بھی ہيں، دعویٰ کرتے ہيں کہ ان کے فارم کی 'سالمن ٹراوٹ' پورے پاکستان ميں کسی جگہ بھی دستياب نہيں ہے۔
ان کے مطابق اس کی قيمت مارکيٹ ميں 6000 روپے کلو ہے۔ اس کے علاوہ براون ٹراؤٹ کی قیمت دو ہزار روپے کلو جب کہ رينبو ٹراوٹ کی قيمت 1600 روپے فی کلو ہے۔
پاکستان کی کرتار پور بارڈر عارضی طور پر کھولنے کی پیش کش
پاکستان نے کرونا وائرس کے باعث مارچ میں بند کی گئی کرتار پور راہداری عارضی طور پر 29 جون کو کھولنے کی پیش کش کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے ہفتے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسلام آباد نے نئی دہلی کو آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان، سابق سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے تیار ہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جس طرح کرونا وائرس کی وجہ سے عارضی طور پر بند ہونے والے مذہبی مقامات کو بتدریج کھولنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان نے بھی سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور صاحب راہداری کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات کر لیے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایس او پیز طے کرنے کے لیے بھارت کو بات چیت کی دعوت بھی دی ہے۔
تاہم پاکستان کے طرف سے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھولنے کی پیش کش کا بھارت کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یادر ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران نے گزشتہ سال نومبر میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا۔ یہ پاکستان کے شہر نارووال اور بھارت کے شہر گورداسپور کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
راہداری کے ذریعے بھارت میں بسنے والے سکھ یاتری بغیر ویزے کے کرتار پور صاحب گوردارہ آ سکتے ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے پاکستان نے یہ راہداری رواں سال 16 مارچ کو عارضی طور پر بند کر دی تھی۔