یورپی یونین کا 15 ملکوں کے شہریوں کو یورپ میں داخلے کی اجازت دینے پر غور
یورپ میں کرونا وائرس کا زور کم ہونے کے بعد زندگی معمول پر لوٹ رہی ہے لیکن احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اسپین کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین 15 ایسے ممالک کے شہریوں کو یورپ میں داخلے کی اجازت دینے جا رہی ہے جو یونین کا حصہ نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ یورپی یونین میں شامل ملکوں نے اپنی سرحدیں آمد و رفت کے لیے کھول دی ہیں جو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بند کی گئی تھیں۔ ان ممالک کی فہرست پیر یا منگل کو جاری کی جائے گی جن کے شہریوں کو کرونا وائرس کی وبا کے بعد یورپی ملکوں میں داخلے کی اجازت ہو گی۔
دوسری جانب فرانس اور پولینڈ میں زندگی معمول پر آ رہی ہے اور انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں میں کرونا وائرس کے باعث انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔
فرانس میں کرونا کے باعث ملتوی ہونے والے میونسپل انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس دوران ووٹرز نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ماسک اور سوشل ڈسٹینسنگ کے ساتھ لائنوں میں کھڑے ہو کر اپنا ھقِ رائے دہی استعمال کیا جب کہ رجسٹر پر دستخط کے لیے ہر شخص اپنا الگ قلم لایا تھا۔
فرانس کے کچھ علاقے جہاں کرونا کا خطرہ بدستور موجود ہے وہاں 'میل اِن بیلٹس' کی سہولت دی گئی تھی۔
افریقہ میں کرونا کے مریض تین لاکھ 71 ہزار سے زائد
'افریقی سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول' نے اتوار کو کہا ہے کہ براعظم افریقہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد تین لاکھ 71 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جب کہ 9 ہزار 484 اموات ہو چکی ہیں۔ کئی افریقی ملکوں میں وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔٫
- By ضیاء الرحمن
پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی
پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سرحدی راستہ کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر نارووال شاہد زمان کے مطابق کرتار پور راہداری کو حکومت پاکستان کی ہدایت پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے جسے کرونا کے باعث مارچ میں ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نارووال نے بتایا کہ راہداری کھولنے کے لیے ایک سادہ اور مختصر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے۔
پاکستان نے اپنی طرف سے رواں ماہ 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے بھارت کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بھارت تاحال کرتار پور راہداری کھولنے سے انکاری ہے۔
پاکستان کی حکومت نے سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سکھ مت کے پیروکار اپنے مذہبی عقائد کے مطابق برسی کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔
واضح رہے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ سال نو نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا جس پر دنیا بھر میں بسنے والے سکھ مذہب کے ماننے والوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔