افریقہ میں کرونا کے مریض تین لاکھ 71 ہزار سے زائد
'افریقی سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول' نے اتوار کو کہا ہے کہ براعظم افریقہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد تین لاکھ 71 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جب کہ 9 ہزار 484 اموات ہو چکی ہیں۔ کئی افریقی ملکوں میں وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔٫
- By ضیاء الرحمن
پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول دی
پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سرحدی راستہ کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر نارووال شاہد زمان کے مطابق کرتار پور راہداری کو حکومت پاکستان کی ہدایت پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے جسے کرونا کے باعث مارچ میں ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نارووال نے بتایا کہ راہداری کھولنے کے لیے ایک سادہ اور مختصر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے۔
پاکستان نے اپنی طرف سے رواں ماہ 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے بھارت کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق بھارت تاحال کرتار پور راہداری کھولنے سے انکاری ہے۔
پاکستان کی حکومت نے سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سکھ مت کے پیروکار اپنے مذہبی عقائد کے مطابق برسی کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔
واضح رہے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ سال نو نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا جس پر دنیا بھر میں بسنے والے سکھ مذہب کے ماننے والوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔
افغانستان میں کرونا کے کیسز 31 ہزار 200 سے زائد، اموات 733 ہو گئیں
افغانستان کی وزارتِ صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا وائرس 271 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 31 ہزار 238 ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق کرونا وائرس سے افغانستان میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 733 تک پہنچ گئی ہے۔
البتہ ماہرین صحت یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ افغانستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد سامنے آنے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
افغان وزارتِ صحت کے ایک ترجمان اکمل سامسور کے اندازے کے مطابق ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 15 لاکھ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی بیمار افراد کو ہی اسپتالوں میں لایا جاتا ہے اور حکومت کے اعداد و شمار مریضوں کے اندراج پر مبنی ہوتے ہیں۔