رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

01:50 30.6.2020

کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے ابھی کوئی آثار نہیں، عالمی ادارہ صحت

ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت
ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس عدنان گیبری ایسیس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا خاتمے کے قریب بھی نہیں ہے اس کا عالم گیر سطح پر پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

آج پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ایجنسی کو پہلی مرتبہ اس وائرس کے بارے میں اطلاع ملنے کے چھ ماہ کل منگل کو پورے ہو جائیں گے۔ ان کے ادارے کو اطلاع ملی تھی کہ چین میں نمونیا کے غیر معمولی کیسز ہوئے ہیں۔ یہی کرونا وائرس کے آغاز کی پہلی علامت تھی۔

چھ مہینے پہلے ہم میں کوئی بھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ نیا وائرس عالمگیر وبا بن جائے گا۔ اس کے بعد سے عالمی ادارہ صحت نے شکار اور ہلاک ہونے والوں کا پورا ریکارڈ رکھا ہے۔ اسی ریکارڈ کے مطابق اب تک پوری دنیا میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ اور ہلاک شدگان کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

ٹیڈراس نے کہا کہ اکثر ملک یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کرونا وائرس کے ساتھ زندگی گذارنے کی کس طرح کی منصوبہ بندی کریں۔ کیونکہ یہ زندگی کا نیا معمول بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ملکوں نے اس پر بہت حد تک قابو پایا ہے اور پھیلنے کی رفتار کو سست کیا ہے، مگر وہ اس کو مکمل طور سے مٹا نہیں سکے۔ کچھ ملکوں نے جب اپنی معیشت کو کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا۔

ٹیڈراس نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی تذبذب کا شکار ہیں، کیوں کہ وائرس کے پھیلنے کی گنجائیش موجود ہے۔ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ وائرس ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا ہے۔

ٹیڈراس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس ہفتے اپنا اجلاس بلا رہا ہے، جس میں کرونا وائرس کے بارے میں ہونے والی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ترجیحات کو نئے سرے مرتب کیا جائے گا۔

درجنوں ویکسین ابھی تجرباتی طور پر پہلے سٹیج پر ہیں اور کچھ تجربات کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔

01:54 30.6.2020

سندھ میں اموات کا نیا ریکارڈ، پاکستان میں مزید 136 ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیر کو کرونا وائرس کے 74 مریض دم توڑ گئے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ کی جانے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

ملک بھر میں مجموعی طور پر 136 افراد ہلاک ہوئے جو ایک دن پہلے کی 49 اموات کے مقابلے میں ڈھائی گنا سے بھی زیادہ ہے۔

دن بھر میں 2697 نئے کیسز کی بھی تصدیق ہوئی۔ ان میں دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اعداد و شمار شامل نہیں اس لیے اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

دس دن پہلے تک پاکستان میں روزانہ 30 ہزار ٹیسٹ کیے جارہے تھے اور زیادہ کیسز کی تصدیق ہورہی تھی۔ 19 جون کو 31681 ٹیسٹ کیے گئے اور 6604 کیسز سامنے آئے۔ لیکن اس کے بعد ٹیسٹ کم کیے جانے لگے اور 24، 25 اور 26 جون کو صرف 21، 21 ہزار ٹیسٹ کیے گئے۔

پیر کو سندھ کے محکمہ صحت کے مطابق 1539 کیسز سامنے آئے، 74 مریض چل بسے, جب کہ 1093 شفایاب ہو گئے۔ پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق 723 نئے مریضوں کا علم ہوا، 46 مریض ہلاک ہوئے اور 1085 صحت یاب ہو گئے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 337 ٹیسٹ مثبت آئے، 13 مریضوں کا انتقال ہو گیا اور 278 نے وائرس کو شکست دے دی۔

بلوچستان میں 74 کیسز کی تصدیق ہوئی، 3 مریض دم توڑ گئے اور 258 کو شفا مل گئی۔ گلگت بلتستان میں 28 افراد وائرس میں مبتلا ہوئے اور 18 صحت یاب ہو گئے۔

پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 208161، اموات کی تعداد 4275 اور صحت یاب ہو جانے والوں کی تعداد 97619 تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 12 ملکوں میں 2 لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

01:58 30.6.2020

غریب اور جنگ زدہ ملکوں میں عالمی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں، ماہرین

ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے لاتعداد ملک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کے ساتھ یہ ملک کرونا وائرس کے ساتھ دیگر مسائل میں بھی الجھے ہوئےہیں۔

کئی ماہ سے ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں صحت کا کمزور نظام کرونا وائرس کی وبا کا زور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر پسماندہ اور جنگ زدہ ملکوں میں یہ وبا اور زیادہ پھیلی تو متاثرہ ملکوں میں علاج معالجے کی سہولتیں کم پڑ جائیں گی۔ ایسے حالات اب دستک دے رہے ہیں اور یہ ممالک اس حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح اس وبا کا مقابلہ کریں گے۔

جنوبی یمن میں ہیلتھ ورکرز اپنا کام اس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ انہیں حفاظتی کٹس مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ بہت سے اسپتال ناکافی میڈیکل سٹاف کی وجہ سے مریضوں کو واپس بھیج رہے ہیں۔

سوڈان کے جنگ زدہ دارفور علاقے کے کیمپوں میں کرونا وائرس سے ملتی جلتی ایک اور پراسرار وبا پھیل رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت میں کیسیز کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی والے ان دونوں ملکوں میں اس قدر غربت ہے کہ یہاں کے حکام کہہ رہے ہیں کہ مکمل ملک گیر لاک ڈاون ممکن نہیں ہے۔

لاطینی امریکہ پر نظر ڈالیں تو برازیل میں کرونا کیسیز کا سیلاب امنڈ آیا ہے۔ امریکہ کے بعد کرونا متاثرین کی تعداد برازیل میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح پیرو، چلی، ایکوڈور اور پاناما میں کیسیز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی افریقہ جیسے ترقی پذیر ملک میں مریض اسپتال کے کمروں باہر راہداریوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کسی بھی افریقی ملک سے زیادہ ہے، جب کہ یہاں صحت کا نظام دیگر افریقی ملکوں سے بہتر شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افریقہ کے وہ ملک ہیں، جو پہلے ہی خانہ جنگی، لڑائیوں اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ان حالات میں کرونا وائرس سے لڑنا ان کے بس کی بات نہیں۔

صحت کے عالمی ماہرین کہہ رہے کہ کرونا کو قابو میں کرنے کے لیے لاک ڈاون اور ٹیسٹنگ ضروری ہیں۔ لیکن یہ غریب ملک ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ "ڈاکٹرز وتھ آوٹ بارڈرز" کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم جن غریب ملکوں میں کام کر رہی ہے، وہاں سب سے بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہے۔ مصر کو چھوڑ کر بقیہ تمام افریقی ملکوں میں ٹیسٹنگ کا نظام ناکافی ہے۔

لاک ڈاون بھی ان ملکوں میں ناممکن ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے مقابلے میں یہاں کا متوسط طبقہ بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بھارت میں جب لاک ڈاون کیا گیا تو بڑے بڑے شہروں سے لاکھوں مزدوروں اور کارکنوں کی اندرون ملک ترک مکانی ایک سنگین انسانی بحران میں بدل گئی۔ یہ کروڑوں لوگ جب اپنے آبائی علاقوں کے لیے روانہ ہوئے تو حکومت انہیں مناسب ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کر سکی۔ بہت سے لوگوں نے سینکڑوں میل کا پیدل سفر کیا اور درجنوں افراد راستے میں ہلاک ہو گئے۔

لاطینی امریکہ کے ملکوں میں غربت کی وجہ سے ضروری احتیاطوں پر عمل کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا۔ لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر کام کر کے اپنے گنجان آباد گھروں کو واپس آتے ہیں۔ ظاہر ہے ان حالات میں کوئی بھی حکومت بنیادی احتیاطی تدابیر کو لاگو نہیں کر سکتی۔

یمن میں پانچ سال سے خانہ جنگی ہو رہی ہے، اور وہاں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہوثی باغی شمال میں اس وبا سے متعلق تمام اطلاعات کو دبا رہے ہیں، جب کہ جنوب میں صحت کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔

تیز شہر کے ڈاکٹر عبدالرحمان العزراقی کہتے ہیں کہ یمن میں کرونا وائرس کے مریض گھروں میں رہتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پوری دنیا میں کرونا وائرس کے شکار ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالم گیر کرونا وبا نے پوری طرح ان غریب ملکوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے، مگر آنے والا وقت کوئی امید افزا تصویر نہیں پیش کر رہا ہے۔

03:21 30.6.2020

کرونا وائرس ڈراونا خواب ہے، ڈراونے خواب دکھاتا ہے

امریکی ریاست ٹینیسی کی کم وکٹری ایک بستر پر مفلوج پڑی تھیں اور انھیں زندہ جلایا جا رہا تھا۔

کسی نے ان کی جان بچائی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ ایک تفریحی بحری جہاز میں برف کا بت بنی کھڑی تھیں۔ کچھ عرصے بعد جاپان کی ایک لیبارٹری میں ان پر تجربات کیے جا رہے تھے۔ پھر اچانک بہت سی بلیوں نے ان پر حملہ کردیا۔

کم وکٹری کو یہ ڈراؤنے خواب ایک تواتر سے اس وقت آئے جب وہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل تھیں۔ ان خوابوں نے انھیں اس قدر پریشان کیا کہ ایک بار وہ آئی سی یو کے فرش پر گر پڑیں۔ ایک بار وینٹی لیٹر میں انھوں نے آکسیجن کی ٹیوب کھینچ ڈالی۔

کم وکٹری موت کے منہ سے واپس آئیں اور صحت یاب ہونے کے بعد انھیں اسپتال سے چھٹی مل گئی۔ لیکن ڈراؤنے خوابوں نے چھٹی نہیں دی۔ وہ کہتی ہیں کہ سب کچھ حقیقی لگتا تھا اور میں بہت ڈر جاتی تھی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل کیے جانے والے متعدد مریضوں کو کم و بیش کم وکٹری جیسے تجربات ہو رہے ہیں۔ ہاسپٹل ڈلیریئم یا اسپتال کا خلفشار کے نام والی اس کیفیت کے شکار عموماً معمر مریض ہوتے تھے۔ ایسے مریض جو پہلے سے بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ حالیہ چند سال میں اسپتالوں نے اس کیفیت میں کمی کے اقدامات کیے ہیں۔

لیکن کرونا وائرس نے ان تمام اقدامات پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ کہنا ہے ڈاکٹر ویسلے ایلی کا، جو نیش ول کے ویٹرنز ایڈمنسٹریشن اسپتال کی اس ٹیم کے رکن ہیں جس نے اسپتالوں میں ڈلیریئم کم کرنے کی رہنما ہدایات مرتب کی تھیں۔

اب یہ کیفیت کرونا وائرس کے ہر عمر کے مریضوں کو پریشان کر رہی ہے جنھیں پہلے کسی قسم کا ذہنی مسئلہ نہیں تھا۔ اسپتالوں اور تحقیق کرنے والوں کے مطابق آئی سی یو میں داخل دو تہائی سے تین چوتھائی مریضوں کو کئی طرح سے یہ تجربہ ہوتا ہے۔

بعض مریضوں کو شدید نوعیت کا خلفشار ہوتا ہے اور وہ غیر مرئی چیزوں کی وجہ سے ہذیان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کو داخلی طور پر وہم ہوتا ہے اور وہ سکتے جیسی کیفیت میں پڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو دونوں طرح کا مسئلہ ہوتا ہے۔

یہ دہشت انگیز تجربہ صرف عارضی نوعیت کا نہیں۔ اس کے اثرات دیر تک رہ سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسپتال میں قیام کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، صحت یابی سست ہو جاتی ہے اور اس مریض کے ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صحت مند معمر مریض اسپتال کے خلفشار کے بعد دوسروں کے مقابلے میں جلد بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جلدی انتقال کر سکتے ہیں۔

عالمگیر وبا کے دوران اس کیفیت کے کئی اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ بعض مریضوں کو طویل عرصہ وینٹی لیٹر پر رہنا پڑتا ہے، انھیں نشہ آور دوائیں دی جاتی ہے اور ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے عوامل میں مریض کا غیر متحرک رکھنا تاکہ وہ آکسیجن کی ٹیوب یا دوسری اشیا کو نہ کھنچیں اور دوسروں سے کم رابطہ شامل ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ ان سے ملنے نہیں آ سکتے اور طبی عملہ صرف ضرورت کے وقت اور حفاظتی لباس میں قریب آتا ہے۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر سجن پٹیل کا کہنا ہے کہ وائرس خود اور اس کے خلاف جسم کا ردعمل بھی ذہنی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس سے بھی لوگ ڈلیریئم کا شکار ہوجاتے ہیں۔

شدید بیمار افراد جسم میں آکسیجن کی کمی اور سوزش کا شکار ہوتے ہیں جس کا اثر پھیپھڑوں کے علاوہ دماغ اور کئی دوسرے اعضا پر پڑتا ہے۔ گردوں یا جگر کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے جو دوائیں دی جاتی ہیں، وہ ڈلیریئم بڑھا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کے پیش نظر پہلا مقصد مریض کی جان بچانا ہوتا ہے۔ اس کوشش میں دی گئی دوائیں یا اسپتال کے حالات سے مریض خلفشار کا شکار ہو سکتا ہے لیکن اس کا علاج کرنا ثانوی درجے پر چلا جاتا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG