کرونا وائرس ڈراونا خواب ہے، ڈراونے خواب دکھاتا ہے
امریکی ریاست ٹینیسی کی کم وکٹری ایک بستر پر مفلوج پڑی تھیں اور انھیں زندہ جلایا جا رہا تھا۔
کسی نے ان کی جان بچائی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ ایک تفریحی بحری جہاز میں برف کا بت بنی کھڑی تھیں۔ کچھ عرصے بعد جاپان کی ایک لیبارٹری میں ان پر تجربات کیے جا رہے تھے۔ پھر اچانک بہت سی بلیوں نے ان پر حملہ کردیا۔
کم وکٹری کو یہ ڈراؤنے خواب ایک تواتر سے اس وقت آئے جب وہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل تھیں۔ ان خوابوں نے انھیں اس قدر پریشان کیا کہ ایک بار وہ آئی سی یو کے فرش پر گر پڑیں۔ ایک بار وینٹی لیٹر میں انھوں نے آکسیجن کی ٹیوب کھینچ ڈالی۔
کم وکٹری موت کے منہ سے واپس آئیں اور صحت یاب ہونے کے بعد انھیں اسپتال سے چھٹی مل گئی۔ لیکن ڈراؤنے خوابوں نے چھٹی نہیں دی۔ وہ کہتی ہیں کہ سب کچھ حقیقی لگتا تھا اور میں بہت ڈر جاتی تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل کیے جانے والے متعدد مریضوں کو کم و بیش کم وکٹری جیسے تجربات ہو رہے ہیں۔ ہاسپٹل ڈلیریئم یا اسپتال کا خلفشار کے نام والی اس کیفیت کے شکار عموماً معمر مریض ہوتے تھے۔ ایسے مریض جو پہلے سے بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ حالیہ چند سال میں اسپتالوں نے اس کیفیت میں کمی کے اقدامات کیے ہیں۔
لیکن کرونا وائرس نے ان تمام اقدامات پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ کہنا ہے ڈاکٹر ویسلے ایلی کا، جو نیش ول کے ویٹرنز ایڈمنسٹریشن اسپتال کی اس ٹیم کے رکن ہیں جس نے اسپتالوں میں ڈلیریئم کم کرنے کی رہنما ہدایات مرتب کی تھیں۔
اب یہ کیفیت کرونا وائرس کے ہر عمر کے مریضوں کو پریشان کر رہی ہے جنھیں پہلے کسی قسم کا ذہنی مسئلہ نہیں تھا۔ اسپتالوں اور تحقیق کرنے والوں کے مطابق آئی سی یو میں داخل دو تہائی سے تین چوتھائی مریضوں کو کئی طرح سے یہ تجربہ ہوتا ہے۔
بعض مریضوں کو شدید نوعیت کا خلفشار ہوتا ہے اور وہ غیر مرئی چیزوں کی وجہ سے ہذیان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کو داخلی طور پر وہم ہوتا ہے اور وہ سکتے جیسی کیفیت میں پڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو دونوں طرح کا مسئلہ ہوتا ہے۔
یہ دہشت انگیز تجربہ صرف عارضی نوعیت کا نہیں۔ اس کے اثرات دیر تک رہ سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسپتال میں قیام کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، صحت یابی سست ہو جاتی ہے اور اس مریض کے ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صحت مند معمر مریض اسپتال کے خلفشار کے بعد دوسروں کے مقابلے میں جلد بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جلدی انتقال کر سکتے ہیں۔
عالمگیر وبا کے دوران اس کیفیت کے کئی اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ بعض مریضوں کو طویل عرصہ وینٹی لیٹر پر رہنا پڑتا ہے، انھیں نشہ آور دوائیں دی جاتی ہے اور ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے عوامل میں مریض کا غیر متحرک رکھنا تاکہ وہ آکسیجن کی ٹیوب یا دوسری اشیا کو نہ کھنچیں اور دوسروں سے کم رابطہ شامل ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ ان سے ملنے نہیں آ سکتے اور طبی عملہ صرف ضرورت کے وقت اور حفاظتی لباس میں قریب آتا ہے۔
کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر سجن پٹیل کا کہنا ہے کہ وائرس خود اور اس کے خلاف جسم کا ردعمل بھی ذہنی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس سے بھی لوگ ڈلیریئم کا شکار ہوجاتے ہیں۔
شدید بیمار افراد جسم میں آکسیجن کی کمی اور سوزش کا شکار ہوتے ہیں جس کا اثر پھیپھڑوں کے علاوہ دماغ اور کئی دوسرے اعضا پر پڑتا ہے۔ گردوں یا جگر کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے جو دوائیں دی جاتی ہیں، وہ ڈلیریئم بڑھا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کے پیش نظر پہلا مقصد مریض کی جان بچانا ہوتا ہے۔ اس کوشش میں دی گئی دوائیں یا اسپتال کے حالات سے مریض خلفشار کا شکار ہو سکتا ہے لیکن اس کا علاج کرنا ثانوی درجے پر چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں مزید 118 اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 118 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی کل تعداد 4304 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے شکار 2689 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس طرح نئے مریضوں کی تعداد بھی گھٹ رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں 20 ہزار 930 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 2846 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
روس میں کرونا کے مریض ساڑھے چھ لاکھ کے قریب
روس میں کرونا وائرس کے مزید چھ ہزار سے زائد کیسز سامنے آنے کے بعد کووڈ 19 کے مریضوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 6693 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی کل تعداد چھ لاکھ 47 ہزار 849 ہو گئی ہے۔
پیر کو 154 افراد کی اموات کے بعد ملک میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 9320 ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا: میلبرن میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا فیصلہ
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبرن میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکام نے کچھ علاقوں میں پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور لاکھوں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں جمعرات سے اب تک کرونا وائرس کے 233 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے سب سے زیادہ مریض میلبرن میں سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلیا نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر کسی حد تک قابو پا لیا تھا لیکن حالیہ کیسز نے ایک بار پھر آسٹریلیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
حکام کے مطابق میلبرن میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بدھ سے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں عائد کی جائیں گی جس کے باعث تقریباً تین لاکھ افراد گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوں گے۔