سرینگر میں پولیس کی جانب سے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام سرینگر میں پولیس اہلکار کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر سے متعلق لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے فیس ماسک تقسیم کر رہے ہیں۔
بھارت: کرونا کے مریضوں کے لیے انوکھے بستر تیار
بھارت میں ایک جانب جہاں کرونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں اور بندشوں میں نرمی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب تیزی سے بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اسپتال قائم کرنے کی غرض سے گتے کے بنے ہوئے بستر تیار کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے 'انڈیا ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق گتے سے بنائے جانے والے بیڈز کی خصوصی طور پر کیمیکلز سے کوٹنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ یہ بیڈ پانی کی وجہ سے خراب نہ ہوں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گتے سے بنائے گئے یہ بیڈز 300 کلو تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق یہ بیڈ ڈیزائن کرنے والے وِکرم دھون کا کہنا ہے کہ ان بیڈز کا وزن انتہائی کم ہے اسے ایک شخص باآسانی اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا ہے۔
وِکرم دھون راجستھان کے بھیواڑی شہر میں قائم اپنے کارخانے میں بڑے پیمانے پر یہ بیڈز تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
اُن کے بقول، یہ بیڈز گتے کے مختلف حصوں کو جوڑ کر چند منٹ میں بنائے جا سکتے ہیں جب کہ یہ کافی پائیدار اور کم وزن کے بھی ہیں۔
افغان دارالحکومت میں اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کا سامنا
افغانستان کی وزارتِ صحت نے ملک میں کرونا وائرس کے مزید 279 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 31517 ہو گئی ہے۔
حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس کی وجہ سے 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ کرونا وبا شروع ہونے کے بعد سے اب تک اموات کی تعداد 745 ہو گئی ہے۔
افغانستان میں وبا سے متاثرہ 197 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
نگران وزیرِ صحت نے تسلیم کیا ہے کہ کابل میں اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی ہے۔ ان میں وہ دو اسپتال بھی شامل ہیں جن میں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد میں بتدریج کمی
پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ ایک بار پھر کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک 12 لاکھ 83 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چار روز میں ملک بھر میں ٹیسٹ کرنے کی تعداد میں مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20ہزار 930 ٹیسٹ کرنے کی تصدیق کی ہے جب کہ اس سے ایک روز قبل 23ہزار، اس سے پہلے 25 ہزار جب کہ جمعے کو 21 ہزار اور جمعرات کو بھی 21 ہزار ٹیسٹ کیے تھے۔
رواں ماہ کے وسط میں یومیہ 31ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے وضاحت سامنے نہیں آئی کی ٹیسٹ کم کیوں کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس معاملے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بعض صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں یومیہ ٹیسٹ کی استعداد 70 ہزار کے قریب ہے لیکن شہریوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے۔