امریکہ میں ریکارڈ 47000 کیسز
امریکہ میں منگل کو کرونا وائرس کے 47000 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امریکی ریاستیں کیلی فورنیا، ٹیکساس اور ایریزونا کرونا وائرس کا نیا مرکز بن رہی ہیں جہاں حالیہ دنوں میں ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس سے امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جو دنیا میں اس وبا سے ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امریکہ کے ادارۂ برائے وبائی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ کیسز کی تعداد ڈبل ہونے کا خدشہ ہے اور یہ وبا اب ہمارے قابو میں نہیں ہے۔
آسٹریلیا کے 36 علاقوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان
آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبورن میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے 36 علاقوں میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے تین لاکھ 20 ہزار شہری متاثر ہوں گے۔
متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے لیے سفر سے گریز کریں اور گھروں میں ہی رہیں۔
میلبرن کے ریستورانوں اور کیفیز میں کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم نئے حکم نامے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ریستوران اور کیفیز صرف پارسل کی سہولت فراہم کر سکیں گے۔
امریکہ میں یومیہ کیسز ایک لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں، ڈاکٹر فاؤچی
امریکہ میں وبائی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ اگر عوام نے صحتِ عامہ کی سفارشات پر عمل نہ کیا تو کرونا وائرس کے کیسز یومیہ ایک لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات اسکول اور دفاتر کھولنے سے متعلق سینیٹ کی سماعت کے دوران کہی۔ ڈاکٹر فاؤچی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں وبائی امراض کے شعبے کے سربراہ ہیں۔
ان سے سوال کیا گیا کہ بعض ریاستوں میں کیسز کے حالیہ اضافے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل درست پیش گوئی تو نہیں کر سکتے۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ نتائج پریشان کن ہوں گے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ اب یومیہ 40 ہزار کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اگر صورتِ حال نہ بدلی تو یومیہ ایک لاکھ کیسز پر بھی مجھے حیرت نہیں ہو گی اور میں بے حد فکر مند ہوں۔
گوگل کا امریکہ میں دفاتر کھولنے کا فیصلہ مؤخر
گوگل نے امریکہ میں اپنے تمام دفاتر کھولنے کے فیصلے کو دو ماہ کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
گوگل کی ترجمان کیتھرین ولیم کے مطابق کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر امریکہ میں گوگل کے تمام دفاتر سات ستمبر تک بند رہیں گے۔
اس سے قبل گوگل نے کہا تھا کہ کہ بعض دفاتر میں چھ جولائی سے آپریشن شروع کر دے گا ۔ تاہم اب گوگل نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ سات ستمبر تک اپنے گھروں سے ہی کام کریں۔
گوگل کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب امریکہ کی 14 ریاستوں میں جون کے مہینے میں کیسز کی تعداد ڈبل سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔
امریکہ میں ماہِ جون کے دوران کیسز کی تعداد میں 46 فی صد اور اموات کی شرح میں 21 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔