پاکستان میں کرونا وائرس کے مزید 3979 کیسز، 78 مریض ہلاک
پاکستان میں جمعرات کو کرونا وائرس کے مزید 3979 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 78 مریض ہلاک ہوگئے۔ ملک بھر میں 8513 مریض صحت یاب بھی ہوئے۔ ان میں دارالحکومت اسلام آباد کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں۔
پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1216 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے اور 35 مریض دم توڑ گئے۔ صوبے میں 5520 مریضوں کے شفایاب ہوجانے کی اطلاع ملی۔ امکان ہے کہ گزشتہ کئی دنوں کے اعدادوشمار ملنے کی وجہ سے یہ تعداد زیادہ ہے۔
سندھ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں مزید 2430 افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں، جبکہ 31 مریض چل بسے ہیں۔ 1399 افراد وائرس سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مریضوں کی تعداد 70143 اور اموات کی تعداد 1220 ہوچکی ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق، دن بھر میں 232 نئے کیسز کا علم ہوا اور 10 اموات ہوئیں۔ 1131 افراد کو شفا ملی۔ بلوچستان میں 58 مریضوں کی تصدیق ہوئی اور ایک مریض ہلاک ہوا۔ 307 افراد تندرست ہوگئے۔
گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جمعرات کو 18 نئے کیسز سامنے آئے اور 27 صحت یاب ہوگئے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 25 مریضوں کا پتا چلا، ایک مریض کا انتقال ہوا اور 129 افراد نے وائرس کو شکست دے دی۔
ملک بھر میں مریضوں کی کل تعداد 221788، اموات کی تعداد 4551 اور صحت یاب ہوجانے والوں کی تعداد 113209 تک پہنچ گئی ہے۔
اب تک پاکستان سمیت 13 ملکوں میں 2 لاکھ سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سب سے کم اموات پاکستان میں ہوئی ہیں۔
کاروبار کھولیں یا بند کریں؟ امریکی معیشت دوراہے پر
امریکہ میں ایک طرف کاروبار کھل رہے ہیں اور دوسری جانب کرونا وائرس کیسز میں اضافے کی وجہ سے معیشت کا زوال بھی جاری ہے۔ اس کا اثر جاب مارکیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جون میں 48 لاکھ افراد کو روزگار ملا لیکن دوسری جانب گزشتہ ہفتے 14 لاکھ افراد بیروزگار ہوگئے۔
محکمہ محنت کے مطابق مئی میں بیرزگاری کی شرح 13٫3 فیصد تھی جو جون میں بہتر ہوکر 11٫1 فیصد ہوگئی۔ لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جون کے اعدادوشمار وسط ماہ میں مرتب کیے گئے تھے۔
پاکستان میں 4000 سے زیادہ کیسز رپورٹ
کرونا کی وبا امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے؟
کرونا وائرس کی عالمی وبا تھمنے میں نہیں آرہی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خوش امیدی ظاہر کی جارہی ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سمجھوتہ کرتے ہوئے یہ غور کیا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح گزارا کیا جاسکتا ہے؟
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ روزمرہ کے معمولات کو بتدریج کس طرح بحالی کی طرف لے جایا جاسکتا ہے، تاوقتکہ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین دریافت نہیں کرلی جاتی۔
بہت سے ممالک جن میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک دونوں شامل ہیں، کرونا وائرس کی وبا سے معیشت پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کے پیش نظر نہایت پریشان ہیں اور وہ متبادل لائحہ عمل پر غور کررہے ہیں۔