خیبر پختونخوا میں 27 ہزار سے زائد کل مریض، 14 ہزار صحت یاب
پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 232 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مصدقہ کیسز کی کل تعداد 27 ہزار 170 ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں 10 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد خیبر پختونخوا میں کرونا سے اموات کی تعداد 983 ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس سے خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 715 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
افغانستان میں کرونا کے 17 ہزار سے زائد مریض صحت یاب
افغانستان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 302 نئے کیسز کے ساتھ ملک میں کرونا مریضوں کی کل تعداد 32 ہزار 324 ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 819 ہو گئی ہے جبکہ 17 ہزار 300 سے زائد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اسی دوران افغان صدر اشرف غنی نے انسپکٹر جنرل کے دفتر کو حکم دیا ہے کہ وہ 'کووڈ 19' کے لیے عطیہ کیے گئے فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں چھان بین کریں کیوں کہ یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ سرکاری اہلکاروں نے امدادی فنڈز کا غلط استعمال کیا ہے۔
بھارت کا کرونا کی تجرباتی ویکسین 15 اگست کو متعارف کرانے کا اعلان
بھارت کے طبی ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کا کہنا ہے کہ بھارت میں تیار کردہ کرونا وائرس کی پہلی ویکسین رواں سال 15 اگست تک متعارف کرائی جاسکتی ہے۔
'آئی سی ایم آر' کے مطابق 'کو ویکسین' نامی ویکسین کا جانوروں پر تجربہ کامیاب رہا اور اس کے انسانوں پر تجربے کے لیے ایک درجن اداروں کو منتخب کیا گیا ہے۔
آئی سی ایم آر کا مزید کہنا ہے کہ اس سلسلے میں 'بھارت بائیوٹیک انٹرنیشنل لمیٹڈ' کے ساتھ مل کر کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ تاہم اس ویکسین کے تجربے کا حتمی نتیجہ تجربے کے لیے منتخب کردہ اداروں کے تعاون پر منحصر ہے۔
طبی ادارے کے مطابق مذکورہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ترجیحی بنیاد پر اپنی کارروائیاں تیز کردیں۔
خیال رہے کہ دنیا کے کئی ملک کرونا وائرس ویکیسن تیار کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک اس وبا سے بچاؤ کے لیے مستند ویکسین تیار کر لی جائے گی۔
بھارت میں کرونا وائرس کی صورتِ حال
بھارت میں جمعے کو کرونا وائرس کے مزید 20 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد بھارت میں مجموعی کیسیز کی تعداد چھ لاکھ 27 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 379 ہلاکتوں کے بعد اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 18 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 92 ہزار سے زائد ہے جبکہ دہلی میں 2864 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دہلی حکومت کی جانب سے قائم کردہ ‘کوویڈ۔19 سیل’ کے رکن عادل اعظمی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کرونا عروج پر ہے۔ تاہم عادل کے بقول جولائی کے اختتام تک کیسز میں کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کرونا سے صحت یاب ہونے والوں کی شرح کسی بھی یورپی ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
عادل اعظمی کے مطابق دہلی میں کرونا کی وبا پر کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ان لوگوں کو ٹریک کیا جاتا ہے جو کرونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہے اور اس طرح مرض کو آگے بڑھنے سے روک دیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ٹیسٹنگ زیادہ ہو رہی ہے۔ فی دس لاکھ افراد 30 ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔