بھارت میں کرونا وائرس کی صورتِ حال
بھارت میں جمعے کو کرونا وائرس کے مزید 20 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد بھارت میں مجموعی کیسیز کی تعداد چھ لاکھ 27 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 379 ہلاکتوں کے بعد اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 18 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 92 ہزار سے زائد ہے جبکہ دہلی میں 2864 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دہلی حکومت کی جانب سے قائم کردہ ‘کوویڈ۔19 سیل’ کے رکن عادل اعظمی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کرونا عروج پر ہے۔ تاہم عادل کے بقول جولائی کے اختتام تک کیسز میں کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کرونا سے صحت یاب ہونے والوں کی شرح کسی بھی یورپی ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
عادل اعظمی کے مطابق دہلی میں کرونا کی وبا پر کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ان لوگوں کو ٹریک کیا جاتا ہے جو کرونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہے اور اس طرح مرض کو آگے بڑھنے سے روک دیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ٹیسٹنگ زیادہ ہو رہی ہے۔ فی دس لاکھ افراد 30 ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
دہلی میں پلازمہ بینک کا قیام
دارالحکومت دہلی میں بھارت کا پہلا پلازمہ بینک جمعرات کو قائم کردیا گیا ہے۔
اس بینک کے منتظم اور عام آدمی پارٹی کے عہدے دار ایف آئی اسمٰعیلی کے مطابق پلازمہ تھراپی کے تحت کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کا خون دوسرے مریض کو لگایا جاتا ہے جس سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے ٹھیک ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ایف آئی اسمٰعیلی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں اب تک 84 مریضوں کا علاج بذریعہ پلازمہ تھراپی کیا گیا جن میں سے 80 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا کنٹونمنٹ زونز کے علاوہ دیگر علاقوں میں لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے نافذ کردہ ہدایات کے مطابق اب بھی میٹرو ریل، سنیما ہالز، جمنازیم، سوئمنگ پول اور ہر قسم کی عوامی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ اسکول، کالجز اور تمام تعلیمی ادارے بھی رواں ماہ 31 جولائی تک بند رہیں گے۔
وزیر اعظم نریند رمودی نے 80 کروڑ افراد کو مفت راشن دینے کی اسکیم کی میعاد میں رواں سال کے اختتام تک توسیع کر دی ہے۔
بھارتی ریاستوں اترپردیش، بہار اور مغربی بنگال کے یومیہ مزدور جو کہ بے روزگاری سے متاثر ہیں۔ بنگلور، ممبئی اور احمد آباد کو لوٹنے لگے ہیں۔
برطانیہ میں ریستوران، بارز اور سیلون کھل گئے
برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی تین ماہ کی بندش کے بعد ہفتے کو بارز، ریستوران اور سیلون کھل گئے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہرفرد کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوتے سماجی دوری برقرار رکھنا ہوگی تاکہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
ادھر پولیس کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ صرف محدود تعداد میں ہی لوگ بار میں داخل ہو سکیں گے جب کہ بارز کے باہر رش کی اجازت نہیں ہو گی۔
برطانیہ میں اب تک تین لاکھ 14 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ اب تک 44 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کا پاکستان کو 100 وینٹی لیٹر کا تحفہ
امریکہ نے پاکستان کو کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کیلئے 100 میڈیکل وینٹی لیٹر عطیہ کئے ہیں۔ جمعہ کے روز امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کیلئے ایک فراخدلانہ پیشکش ہے جو اس مرض سے نمٹنے کیلئے ضروری اور اہم ہے۔ اور یہ کہ امریکہ عالمی وبا کے خلاف پاکستان کی ہنگامی کاوشوں کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں کی کُل تعداد دو لاکھ بائیس ہزار ہے، جب کہ اس وبا سے اب تک 4600 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے جمعرات کے روز ایک آن لائین فورم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں ہمیشہ فراخدلانہ امداد کرتا رہا ہے اور پاکستان امریکہ کے دس ترجیحی ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔
امریکہ پہلے ہی پاکستان کو کرونا وائرس کی لیبارٹریوں میں جانچ، مرض کی تشخیص اور مریضوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت بڑھانے اور وبا سے متعلق دیگر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے، تقریباً 27 ملین ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔
امریکی سفارتخانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے، پاکستان کی جانب سے دواؤں اور دیگر اشیا کے عطیہ کا بھی امریکہ شکر گزار ہے۔