ڈاکٹر ظفر مرزا کا کرونا ٹیسٹ مثبت
وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹ میں ظفر مرزا نے بتایا کہ ان میں کرونا وائرس کی علامات پائی گئی ہیں جس کے بعد وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔
بھارت میں متاثرہ افراد کی تعداد سات لاکھ کے قریب
بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد پیر کو بڑھ کر 697413 ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ کرونا سے متاثر ہونے والا دنیا کا تیسرا بدترین ملک بن گیا ہے۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24248 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی جب کہ 425 افراد کی موت ہوئی۔ میں ملک بھر میں اب تک 19693 افراد کی موت ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی دو لاکھ 53 ہزار افراد زیرِ علاج ہیں جب کہ چار لاکھ 24ہزار مریض صحت یاب ہو کر اسپتال سے گھروں کو جا چکے ہیں۔
بھارت میں مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح 60.85 فی صد ہے۔
ملک میں آج سے آثار قدیمہ کی تمام عمارتوں کو کھولا جا رہا ہے لیکن آگرہ میں کرونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے تاج محل بند رہے گا۔
محکمہ آثار قدیمہ نے 17 مارچ کو آثار قدیمہ کے 3400 مقامات کو بند کر دیا تھا۔
ویکسین تیار کرنے کے لیے مزید ایک برس درکار؟
امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں حکام نے حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں انتہائی اضافے پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر غیر مضر قرار دیتے ہوئے خدشات کو مسترد کیا ہے۔
ریاست اریزونا کے شہر فینکس کی میئر کیٹ گلیگو نے 'اے بی سی نیوز' کے پروگرام ’دس ویک‘ میں بتایا کہ ہم نے کاروبار کھلنے میں جلدی کی ہے۔ ہمیں ایک بحرانی صورت کا سامنا ہے اور 17 لاکھ آبادی کے شہر میں 59 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہیں۔
امریکہ میں حالیہ دنوں میں وائرس سے متاثرہ 50 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور انتہائی متاثرہ علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دوبارہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
'ہارورڈ گلوبل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ' کی ڈائریکٹر علیشا جھا نے 'فوکس نیوز سنڈے شو' میں بتایا کہ انہیں امید ہے کہ 2021 کے ابتدا میں ویکسین تیار ہو جائے گی۔
جھا کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ویکسین تیار کرنے میں مزید ایک برس درکار ہوگا۔
کویت میں نئی قانون سازی، آٹھ لاکھ بھارتی باشندوں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ
خلیجی ممالک میں بھارت کے باشندوں کی بڑی تعداد مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ عالمی کساد بازاری اور دنیا کی معیشت پر کرونا وائرس کی وجہ سے منفی اثرات سے ان بھارتی شہریوں کی ملازمتیں ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔
حالیہ دنوں میں تیل کی قیمت بھی مسلسل کم ہو رہی ہے جس کا اثر خلیج کے ممالک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صورتِ حال یوں ہی برقرار رہی تو بڑی تعداد میں بھارتی باشندوں کو ان ممالک سے واپس بھارت آنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت میں بے روزگاری کا مسئلہ اور سنگین ہو جائے گا۔
اس صورتِ حال کا اشارہ اس وقت ملا جب یہ خبر آئی کہ کویت کی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے قانونی امور نے غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے سے متعلق ایک بل کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بل مشاورت کے لیے ایک دوسری کمیٹی کے پاس جائے گا۔ اگر اس کمیٹی نے بھی اس کی منظوری دے دی اور بل نے قانونی شکل اختیار کر لی تو کم از کم آٹھ لاکھ بھارتی تارکین وطن کو واپس آنا پڑے گا۔ اس صورت حال سے اندرونِ ملک بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مذکورہ بل میں کہا گیا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی 48 لاکھ میں بھارتی باشندوں کی تعداد 15 فی صد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ کویت میں بھارتی باشندوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جو کہ مصری باشندوں کے بعد دوسری بڑی آبادی ہے۔
اس بل میں دوسرے ممالک کے باشندوں کے لیے بھی ایسے ہی کوٹے کی تجویز رکھی گئی ہے۔