امریکہ میں اسکول کھولنے کی تیاریاں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ زور دے رہے ہیں کہ تمام تعلیمی ادارے ستمبر میں فال سیمسٹر کے لیے کھول دیے جائیں۔
اس بارے میں کوئی فیصلہ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ اموات ایک لاکھ بتیس ہزار کے قریب ہیں۔
امریکی ٹیلی ویژن پر ایک نیوز بریفنگ میں وزیرِ تعلیم بیٹسی ڈیوس نے کہا کہ اسکول کھولنا اب ضروری ہو گیا ہے اور زیرِ غور یہ نہیں کہ آیا سکول کھولے جائیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیسے کھولے جائیں؟
اسی دوران امریکہ میں سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ڈئیریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے کہا کہ ہمارا مقصد امریکہ میں سب کو محفوظ رکھنا ہے اور ہماری ہدایات کو اسکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
'اسکول کھولنے کے لیے قابلِ عمل سفارشات جاری کی جائیں گی'
امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اسکول کھولنے سے متعلق نئی رہنما ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادارے پر تنقید کی تھی کہ اس کی سفارشات بہت مہنگی اور ناقابلِ عمل ہیں۔
مائیک پینس نے بدھ کو کہا کہ سی ڈی سی آئندہ ہفتے نیا بیان جاری کرے گا جس سے اس معاملے میں ہدایات زیادہ واضح ہوں گی۔ محکمہ تعلیم میں وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کی بریفنگ کے دوران پینس کا کہنا تھا کہ صدر ان سفارشات کو بہت سخت نہیں دیکھنا چاہتے۔
سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے زور دیا کہ ادارے کی رہنما ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اور میرے ادارے کو بھی بہت مایوسی ہو گی اگر لوگ ان ہدایات کو بہانہ بنا کر اسکول نہ کھولیں۔
سی ڈی سی نے اسکولوں کے لیے متعدد سفارشات پیش کی تھیں جن میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ، طلبہ کو چھوٹے گروپس میں تقسیم کرنا، کیفے ٹیریا کے بجائے کلاسوں میں لنچ فراہم کرنا اور اسکولوں میں مشترکہ استعمال کی اشیا کی تعداد میں کمی شامل تھی۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان
حکومتِ پاکستان نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 15 ستمبر کو اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن اگست اور ستمبر کے اوائل میں صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر کرونا وائرس کی صورتِ حال قابو میں رہی تو 15 ستمبر کو ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے۔
ان کے بقول 'ایس او پیز' کے تحت تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے۔ اس ضمن میں مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ کچھ تجاویز یہ ہیں کہ ایک دن اسکول کھولے جائیں اور ایک دن چھٹی ہو تاہم ابھی دو ماہ ہیں اس کا حتمی فیصلہ اس دوران کر لیا جائے گا۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 314 کیس رپورٹ
افغانستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 33908 ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 314 نئے کیسز سامنے آئے ہیں ۔ وزارتِ صحت کے اعداوشمار کے مطابق اب تک وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 957 ہے۔
افغان وزارتِ صحت کے نگران وزیر ڈاکٹر احمد جاوید عثمانی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے مقابلے میں اس وقت صورتِ حال بہتر ہے۔ دو ماہ پہلے افغانستان میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 70 فی صد تھی جو اب 40 فی صد پر آچکی ہے۔ لیکن انہوں نے یہ کہا کہ ابھی بھی انفیکشن کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے معاملے کو حل کرنے کی بات بھی کی۔ اس سے پہلے کرونا کے مریضوں کے عزیز واقارب نے دعوے کئے تھے کہ کابل کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اموات ہوئیں۔