خیبرپختونخوا میں کرونا مریضوں کے لیے مختص اسپتال کا افتتاح
وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعرات کو پشاور میں صوبے کے پہلے کرونا اسپتال کا افتتاح کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اسپتال ابتداً 60 بستروں پر مشتمل ہے جب کہ ایک ماہ بعد اس تعداد کو 110 تک بڑھایا جائے گا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اسپتال ملک میں کرونا مریضوں کے لیے مختص اپنی نوعیت کا پہلا اسپتال ہے اور یہ بین الاقوامی ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال میں کرونا مریضوں کے لیے ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔
اسپتال میں آئسولیشن وارڈ، وینٹی لیٹرز سمیت دیگر سہولیات بھی موجود ہیں۔
وزیر اعلٰی کا کہنا ہے کہ اسپتال کے قیام سے پشاور کے ٹیچنگ اسپتالوں پر کرونا مریضوں کا دباؤ کم ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کے تعاون سے پشاور میں 210 بستروں پر مشتمل ایک اور اسپتال قائم کیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں یومیہ کیسز کا نیا ریکارڈ
امریکہ میں جمعرات کو کرونا وائرس کے 63 ہزار 200 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک روز کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کا نیا ریکارڈ ہے۔
امریکہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وبا تیزی سے پھیلی ہے جس نے 50 میں سے 41 ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں نئے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صرف ریاست فلوریڈا میں جمعرات کو تقریباً نو ہزار کیسز اور وبا سے 120 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گورنر رون ڈی سینٹس نے کرونا کیسز میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیا ہے اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں۔
امریکہ کی گنجان آباد ریاستوں کیلی فورنیا اور ٹیکساس نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ ریاستوں میں کرونا سے اموات کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار مزید 75 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں وبا سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار 58 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مزید 2751 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں کیسز کی تعداد دو لاکھ 43 ہزار 594 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے ایک لاکھ 49 ہزار 92 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے صوبے سندھ میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 900 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد دوسرے نمبر پر پنجاب ہے جہاں 85 ہزار 261 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
کرونا نے کچھ لوگوں کے مزاج کو چڑ چڑا کر دیا ہے، ماہرینِ نفسیات
کروناوائرس کی وبا نے دنیا بھر کے ملکوں کے مقابلے میں امریکیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایسے میں طبیعت کی تیزی اور بدمزاجی کے واقعات زندگی کو لاحق خطرات میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
امریکہ میں صحت کے ماہرین ابھی تک کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نمٹنے کی تگ و دو کر رہے ہیں، بعض ریاستوں میں تو دوبارہ لاک ڈاؤن کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔ جمعرات کی صبح تک امریکہ میں تیس لاکھ ستاون ہزار سے زیادہ کرونا کے کیسز سامنے آچکے تھے اور مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بتیس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔
یہ اعدادوشمار کسی بھی ملک کے لوگوں کیلئے تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں اور ہر ذہن میں یہی سوچ ہوگی کہ اس وبا سے کیسے چھٹکارا ملے اور اپنی حفاظت کیلئے کیا کیا جائے۔