کرونا نے کچھ لوگوں کے مزاج کو چڑ چڑا کر دیا ہے، ماہرینِ نفسیات
کروناوائرس کی وبا نے دنیا بھر کے ملکوں کے مقابلے میں امریکیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایسے میں طبیعت کی تیزی اور بدمزاجی کے واقعات زندگی کو لاحق خطرات میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
امریکہ میں صحت کے ماہرین ابھی تک کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نمٹنے کی تگ و دو کر رہے ہیں، بعض ریاستوں میں تو دوبارہ لاک ڈاؤن کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔ جمعرات کی صبح تک امریکہ میں تیس لاکھ ستاون ہزار سے زیادہ کرونا کے کیسز سامنے آچکے تھے اور مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بتیس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔
یہ اعدادوشمار کسی بھی ملک کے لوگوں کیلئے تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں اور ہر ذہن میں یہی سوچ ہوگی کہ اس وبا سے کیسے چھٹکارا ملے اور اپنی حفاظت کیلئے کیا کیا جائے۔
مزید 13 لاکھ امریکیوں کی بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست
ملازمتوں سے نکالے جانے والے مزید 13 لاکھ امریکیوں نے گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔ عالمی وبا کے باعث دفاتر اور کاروباروں کی بندش سے اب تک لاکھوں امریکی کارکن اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
لیبر ڈپارٹمنٹ نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ تازہ درخواستیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں دوبارہ تیزی آنے سے آجروں کو بدستور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ مسلسل 16 ہفتہ ہے کہ بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست گزاروں کی تعداد مارچ کی اس سطح سے کم ہے جب ایک ہفتے میں 69 لاکھ افراد نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروائی تھیں، جب کہ حالیہ چار ہفتوں کے دوران فی ہفتہ 14 لاکھ سے زیادہ افراد نے درخواستیں دیں۔
سنگاپور میں سماجی احتیاط کے ساتھ انتخابات کے لیے ووٹنگ
سنگاپور کے شہری ہاتھوں پر گلووز اور ماسک پہن کر عام انتخابات کے لیے ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
سنگار پور کے انتخابات کے لیے جمعے کو پولنگ کا عمل شروع ہوا اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں کا پہلے درجہ حرارت چیک کیا جا رہا ہے۔
ووٹرز کو سماجی دوری کی احتیاط پر عمل کرنے سمیت ماسک پہننا اور ہاتھوں پر گلووز پہننے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے پیشِ نظر ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولنگ کا عمل رات آٹھ بجے مکمل ہو گا اور حتمی نتیجے کا اعلان ہفتے کی صبح کیا جائے گا۔
سنگارپور کی 1965 میں آزادی کے بعد سے برسرِ اقتدار جماعت پیپلز ایکشن پارٹی کے وزیرِ اعظم لی سین لونگ کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکان ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے ریکارڈ 26 ہزار کیسز
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 26 ہزار 506 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک روز کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ایک دن میں بھارت میں مہلک وبا سے 475 افراد ہلاک بھی ہوئے۔
کرونا وائرس کے سبب بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنا سمیت دیگر چار اضلاع میں جمعے کے روز سے ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
بھارت کی سب سے زیادہ گنجان آباد ریاست اتر پردیش میں بھی رواں ہفتے جمعے سے اتوار تک لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
بھارت میں اب تک کرونا وائرس کے سات لاکھ 93 ہزار 802 کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ مہلک وبا سے 21604 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت میں 'کووڈ 19' کے سلسلے میں قائم مرکزی وزرا کے گروپ نے بتایا ہے کہ ملک میں آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں کرونا کے 90 فی صد کیسز ہیں۔ ان ریاستوں میں مہاراشٹر، دہلی، تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ بھی شامل ہیں۔
بھارت میں چار لاکھ 95 ہزار سے زائد مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح 60 فی صد سے زائد ہے۔