عالمی وبا کے خلاف جنگ میں بھارت کہاں کھڑا ہے؟
وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے باوجود بھارتی حکام اسے تشویش ناک قرار نہیں دے رہے۔ بھارت کی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائرس پر نظر رکھنے اور اسے محدود کرنے میں ان کی پالیسی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت میں کرونا وائرس سے ہر دس لاکھ میں 13 افراد ہلاک ہو رہے ہیں جب کہ امریکہ اور برازیل میں یہ شرح دس لاکھ میں بالترتیب 400 اور 320 اموات ہیں۔
ناقدین سرکاری اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں حقیقی گنتی معلوم کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ملک میں اعداد و شمار اکھٹے کرنے کا کوئی مستند اور قابل بھروسہ انتظام موجود نہیں ہے۔
بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 43 فی صد اموات کا تعلق 30 سے 60 سال کی عمر کے گروپ سے ہے۔ کرسچن میڈیکل کالج ولور کے ایک ماہر وبائی امراض ڈاکٹر جے پرکاش کہتے ہیں کہ یہ وبا بڑی عمر کے افراد کے لیے زیادہ مہلک ہے۔ غالباً وائرس سے بڑی عمر کی ہلاکتوں کا ڈیٹا یا تو نامکمل ہے یا اکھٹا نہیں کیا جا سکا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں صحت سے متعلق ڈیٹا ریاستی سطح پر جمع کیا جاتا ہے۔ جنوبی ریاست کیرالہ وہ ریاست ہے جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کے تین مریض تشخیص ہوئے تھے۔ اسے ایک ماڈل ریاست کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہاں قرنطینہ مراکز قائم ہوئے اور ان سے رابطے میں رہنے والوں کا ریکارڈ رکھا گیا اور اسی ریاست میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں میں بھی تیزی دکھائی گئی، جب کہ دوسری جانب دہلی ہے۔ اگرچہ یہ دارلحکومت ہے لیکن جس طرح وہاں عالمی وبا کا بندوبست کیا گیا اور جس تیز رفتاری سے وہاں وائرس پھیلا، اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے جگہ نہ رہی اور پھر ریلوے کی 500 بوگیوں کو عارضی اسپتال میں تبدیل کرنا پڑا۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر دشنو داس کہتے ہیں کہ بھارت میں اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔
عالمی وبا کے پھیلاؤ کے دوران چین کے ساتھ سرحدی تنازع بھی صورت حال پر اثرانداز ہوا اور حکام کی توجہ اس اہم مسئلے سے ہٹ کر سرحدوں پر مرکوز ہو گئی۔ اسی طرح کاروباروں کی بندش سے پیدا ہونے والی بے روزگاری اور اقتصادی حالات بھی وبا کے پھیلاؤ پر اثر انداز ہوئے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں اپنا کردار نبھا رہا ہے اور اس وقت اس کی تیار کردہ 7 ویکسینز مختلف تجرباتی مراحل میں ہیں جن میں بھارتی بائیو ٹیک کی ایک ویکسین بھی شامل ہے جس کے بارے میں بھارت کی میڈیکل ریسرچ کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں پر اس کے تجربات کے نتائج ملک کے یوم آزادی 15 اگست کو سامنے آئیں گے۔
ایمریٹس ایئر لائن کا نو ہزار ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ
دنیا کی بڑی ایئر لائنز میں شمار کی جانے والی ایمریٹس ایئر لائن نے کرونا وبا کے معاشی اثرات کے باعث نو ہزار ملازمتیں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعے کو ایک بیان میں ایئر لائن کے صدر ٹم کلارک نے کہا کہ خراب معاشی صورتِ حال کے باعث اُنہیں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
ایمریٹس ایئر لائن کے عملے کی کل تعداد 60 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ کرونا وبا کے باعث دنیا کی ایئر لائن انڈسٹری شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں فلائٹ آپریشن بند ہونے سے ایئر لائنز کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔
ٹوکیو میں کرونا کے مزید 206 کیس رپورٹ
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کرونا وائرس کے مزید 206 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے 'این ایچ کے' کے مطابق حکومت کی جانب سے ہنگامی حالات کے خاتمے کے بعد سے ملک میں کرونا وائرس کے مسلسل نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔
گزشتہ 3 روز سے نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعے کو بھی ٹوکیو میں 243 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
جاپان میں اب تک مجموعی طور پر کرونا کے 20 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ مہلک وائرس سے اب تک ایک ہزار کے لگ بھگ اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں کرونا کے مزید 2752 کیس رپورٹ
پاکستان میں ہفتے کی صبح تک کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 42 ہزار 93 ہوگئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرین کی تعداد میں 2 ہزار 752 افراد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ مزید 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اب تک مجموعی طور پر پانچ ہزار 123 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
سندھ میں متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 2368 ہے جب کہ پنجاب میں 85 ہزار 991 مصدقہ مریض ہیں۔
اسی طرح بلوچستان میں 11 ہزار 128، خیبرپختونخوا میں 29 ہزار 775 افراد کرونا سے متاثر ہیں۔