'پاکستان، افغانستان سمیت 10 ممالک میں ایک کروڑ بچے دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں گے'
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رپورٹ کے حوالے سے برطانیہ کی فلاحی تنظیم 'سیو دی چلڈرن' نے خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا کے باعث لگ بھگ 97 لاکھ بچے دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں گے۔
سیو دی چلڈرن کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ 'سیو آر ایجوکیشن' کے مطابق 12 ممالک نائجر، مالی، چاڈ، لائبیریا، گھانا، موریتانیہ، یمن، نائیجیریا، سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ بچوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق 'سیو آر ایجوکیشن' نامی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے سبب دنیا بھر میں 90 فی صد یعنی ایک ارب 60 کروڑ طلبہ کا اسکولوں اور جامعات میں تعلیمی سلسلہ معطل ہو گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ عالمی سطح پر ایک پوری نسل کی تعلیم وائرس کے سبب متاثر ہوئی ہے۔
شٹ ڈاؤن نہ کرنے سے کیسز بڑھے، فاؤچی، متعدد ملکوں کی سمت غلط ہے، ٹیڈروس
وبائی امراض کے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز دوبارہ تیزی سے بڑھنے کی وجہ مکمل شٹ ڈاؤن نہ کرنا ہے۔
ادھر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینوم کا کہنا ہے کہ وبا کے زمانے میں بہت سے ملک غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ انھوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کا اشارہ امریکی انتظامیہ کی طرف ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے پیر کو اسٹین فورڈ اسکول آف میڈیسن کے ویب نار میں خطاب کیا۔ انھوں نے ایچ آئی ویڈز، ایبولا، اینتھرکس اور زیکا وائرس کی وبائیں دیکھی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس واضح طور پر ان کے کریئر کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
کیلی فورنیا میں کاروبار دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ
کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی کے بعد گورنر گیون نیوسم نے ریاست دوبارہ کھولنے کے منصوبے ملتوی کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ ریسٹورنٹس، شراب خانوں، کیسینوز، تھیٹرز اور چڑیا گھروں کو بند کرنے کے احکامات دے رہے ہیں۔
گورنر نے یہ بھی کہا کہ وہ وبا سے زیادہ متاثرہ کم از کم 30 کاؤنٹیز میں فٹنس مراکز، عبادت گاہوں، کم اہم دفاتر، بال کاٹنے کی دکانوں اور شاپنگ مالز کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ ان کاؤنٹیز میں ریاست کی 80 فیصد آبادی رہتی ہے۔
کیلی فورنیا میں یومیہ اوسطاً 8 ہزار کیسز کی تصدیق ہو رہی ہے جو ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اب تک ریاست میں 3 لاکھ 30 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں جو نیویارک کے بعد ملک میں دوسری بڑی تعداد ہے جب کہ 7 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
جانوروں کی بیماریوں کی انسانوں کو منتقلی کا سبب جنگلی حیات کی اسمگلنگ
کوویڈ 19 کے پھیلاؤ نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جنگلی حیات کی سمگلنک نہ صرف ماحولیات کے لیے ایک خطرہ ہے بلکہ جانوروں کی غیر قانونی منتقلی انسانی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف کی 2020 کی رپورٹ برائے جرائم کے مطابق جنگلی جانوروں کو ذبح کر کے ان کے گوشت کی غیر قانونی خرید و فروخت سے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریاں دنیا میں پھیلنے والی متعدی بیماریوں کا 75 فی صد ہیں اور ان میں کرونا وائرس بھی شامل ہے جس نے عالمی وبا کی صورت اختیار کر کے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نشہ آور ادویات اور جرائم سے متعلق ادارے کے سربراہ غدا ولی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر جرائم میں ملوث گروہ جنگلی حیات کی سمگلنگ سے پیسے بنا رہے ہیں لیکن ان کے جرائم کی قیمت غریب عوام ادا کر رہے ہیں۔