کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہانگ کانگ میں سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ
ہانگ کانگ میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مقامی حکام نے سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ عالمی وبا کے ہانگ کانگ میں پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے ج سکے باعث مقامی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے ہر شخص کو فیس ماسک لازمی پہننا ہوگا جب کہ ریستوران شام چھ بجے کے بعد صرف 'ٹیک اوے' سروس مہیا کریں گے۔
جو شخص پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے فیس ماسک نہیں پہنے گا اس پر پانچ ہزار ہانگ کانگ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک مقام پر چار سے افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہو گی جب کہ جیمنازیم اور اِن ڈور تفریحی مقامات بھی بند رہیں گے۔
خیال رہے کہ پیر کو ہانگ کانگ میں 52 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 41 مقامی منتقلی کے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہانگ کانگ میں کرونا کے 181 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
بیجنگ میں آٹھ دن سے کرونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گزشتہ آٹھ روز سے کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ بیجنگ کی ایک مارکیٹ میں کرونا وائرس کے متعدد کیسز سامنے آئے تھے جسے وائرس کی دوسری لہر قرار دیا جا رہا تھا۔
چین نے بیجنگ میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کی تھی جس کے بعد چینی دارالحکومت میں اب نئے کیسز سامنے آنا بند ہو گئے ہیں۔ البتہ چین کے دیگر علاقوں میں منگل کو پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ترکمانستان میں ٹرین سروس معطل کرنے کا فیصلہ
ترکمانستان میں اب تک کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے لیکن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے ملک میں مسافر ٹرینوں کو 16 جولائی سے معطل کر دیا جائے۔
ترکمانستان ریلوے نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ لوکل ٹرین سروس 16 سے 23 جولائی تک معطل رہے گی۔
جائر بولسونارو آئسولیشن سے اُکتا گئے، دوبارہ کرونا ٹیسٹ کرائیں گے
برازیل کے صدر جائر بولسونارو نے پیر کو کہا ہے کہ وہ مزید آئسولیشن میں نہیں رہ سکتے اور وہ کرونا کا ایک اور ٹیسٹ کرانے کا سوچ رہے ہیں۔ بولسونارو کرونا وائرس کے دو ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں ہیں۔
برازیلین صدر کی پیر کو کچھ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں وہ شتر مرغ کو خوراک کھلا رہے ہیں۔
جائر بولسونارو نے کہا کہ وہ منگل کو دوبارہ ٹیسٹ کرائیں گے جس کے نتائج چند گھنٹوں میں آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت بے چینی سے ان نتائج کا کا انتظار کروں گا کیوں کہ میں اب مزید گھر میں نہیں رہ سکتا، یہ بہت خوف ناک ہے۔