افغانستان میں کرونا کے 34 ہزار سے زائد مریض
افغانستان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ملک میں 'کووڈ 19' کے 135 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد اب افغانستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 34 ہزار 740 ہو گئی ہے۔
افغان وزارتِ صحت کے مطابق کرونا کی وبا سے اب تک ملک میں 1062 اموات بھی ہوئی ہیں جب کہ گزشتہ چند روز کے دوران کرونا کے مثبت کیسز کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔
برازیل کے ایک جوڑے نے کرونا سے بچاؤ کے لیے 'خلائی لباس' پہن لیا
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں جہاں ماسک سمیت دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں وہیں برازیل میں ایک جوڑا انوکھا انداز اپناتے ہوئے خلائی لباس کی طرح دکھائی دینے والی حفاظتی کٹ وائرس سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو کے رہائشی ٹارسیو گالدینو پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ وہ اور اُن کی اہلیہ روزمرہ کے معمولات کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت یہ خصوصی لباس زیبِ تن کرتے ہیں۔
ٹارسیو کہتے ہیں کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے 'خلائی لباس' پہننا اُن کے لیے ایک طرح سے تفریح بھی ہے کیوں کہ وہ خود بھی فلکیات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان کے بقول جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ 'خلائی لباس' پہن کر باہر نکلتے ہیں تو لوگ اُنہیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 67 اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار مزید 67 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 5386 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں نئے 2165 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں کیسز کی کل تعداد دو لاکھ 55 ہزار 769 ہو گئی ہے جن میں سے ایک لاکھ 72 ہزار سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
'نیویارک اب کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے'
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک ہی دن میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ریکارڈ حد سے بڑھ گئی ہے۔ ایک ہی دن میں ایک سو بتیس افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت ریاست کے صرف ایک مقامی ہیلتھ سسٹم جیکسن ہل میں دو سو کے قریب ہیلتھ ورکر کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ایسی ہی خبریں نیویارک سے بھی آرہی تھیں۔ مگر اب وہاں صورتِ حال بہت مختلف ہے اور نہ صرف اس وائرس کے بہت کم مریض زیرِ علاج ہیں بلکہ اموات کا سلسلہ بھی رک سا گیا ہے۔
اب نیویارک اس قابل ہے کہ جن ریاستوں میں وائرس کا زور ہے، انہیں وینٹیلیٹرز، ماسک، گاؤن اور دواؤں کی پیشکش کر سکے۔ اس کے اپنے ہیلتھ کئیر ورکرز اس وائرس کے خلاف لڑائی میں مدد کیلئے دیگر ریاستوں میں جا رہے ہیں اور یہ سب وہ مدد ہے جو چند ماہ پہلے نیویارک کے اسپتالوں کا سہارا بنی تھی۔