پاکستان میں کیسز اور اموات میں کمی
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار 40 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں اس وبا سے مرنے والوں کی یہ کم ترین تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کرونا کے 2145 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی کل تعداد دو لاکھ 57 ہزار 912 ہو گئی ہے جن میں سے ایک لاکھ 78 ہزار 737 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مبتلا اب بھی 1942 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
برازیل کے صدر کا کرونا کا دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت
برازیل کے صدر جیئر بولسونارو کا کرونا وائرس کا دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ سرکاری رہائش گاہ میں ہی قرنطینہ میں رہیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صدر بولسونارو ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے سرکاری امور انجام دیتے رہیں گے۔
ایک ہفتے قبل بھی بولسونارو کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ ان میں کرونا وائرس کی کوئی علامات موجود نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ اینٹی ملیریا ادویات استعمال کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ کے بعد برازیل کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک 75 ہزار سے زیادہ اموات اور 19 لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 15 ہلاکتیں
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے کے شکار 15 مریض ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 211 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق وادی میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بدھ کو بھی 493 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد کیسز کی کل تعداد 11 ہزار 666 تک پہنچ گئی ہے۔
کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
15 people died in past 36 hours raising the toll to 211. The number of positive cases is also surging rapidly. 493 cases surfaced on Wednesday taking the tally to 11,666. Virtual lockdown being enforced strictly in capital Srinagar and some other parts of the Valley.
سب لوگ ماسک پہنیں تو وبا تھم جائے گی، ڈاکٹر ریڈفیلڈ
امریکہ کے سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہا ہے کہ سب لوگ ماسک پہنیں تو چند ہفتوں میں کرونا وائرس کی وبا تھم جائے گی۔
تعلیمی اداروں کو حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھول دینا چاہیے۔ وائرس صورت بدل رہا ہے۔ لیکن ایک بار ویکسین بن گئی تو اسے نہیں بدلنا پڑے گا، البتہ بار بار لگوانی پڑ سکتی ہے۔
سی ڈی سی کے ڈائریکٹر نے ان خیالات کا اظہار وائس آف امریکہ کی خصوصی نمائندہ گریٹا وین سسٹیرن کو ٹی وی انٹرویو میں کیا۔
ڈاکٹر ریڈفیلڈ نے کہا کہ وبا امریکہ کو پانچ سے سات ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچائے گی، جبکہ امریکہ میں صحت کے شعبے کے لیے اتنی رقوم مختص نہیں کی جاتیں جتنی ضرورت ہے۔ صحت عامہ کے شعبے پر توجہ دی جانی چاہیے اور اس میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔