رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:43 16.7.2020

افغانستان میں کرونا کیسز 35 ہزار سے متجاوز، تعلیمی ادارے کھولنے پر غور

فائل فوٹو
فائل فوٹو

افغانستان کی کابینہ نے کرونا وائرس کے باعث بند اعلٰی تعلیمی اداروں اور اسکولوں کو آئندہ ماہ مشروط طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن کابینہ نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ وزارتِ صحت کرے گی۔

افغانستان میں کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سےتعلیمی ادارے 21مارچ کو بند کیے گئے تھے۔

علاوہ ازیں افغان وزارتِ صحت نے جمعرات کو 'کووڈ 19' کے 76 نئے کیسز سامنے آنے کی اطلاع دی ہے۔ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اموات کی تعداد 1115 ہے۔

16:58 16.7.2020

آسٹریلیا: بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز کا امدادی پیکچ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آسٹریلیا کی حکومت نے کرونا وائرس سے بے روزگاری میں اضافے کے بعد لوگوں کی مدد کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم اسکاٹ ماریسن نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت یہ فنڈز تنخواہوں کی مد میں سبسڈی کے طور پر فراہم کرے گی۔ اس فنڈنگ میں ایک ارب ڈالر کی رقم سے چھوٹے کاروباروں کے ملازمین کو ان کی معمول کی تنخواہوں کی نصف رقم فراہم کی جائے گی جب کہ بقیہ 40 کروڑ ڈالرز ہنرمندی کی تربیت پر خرچ ہوں گے۔

کرونا وائرس کے دوران آسٹریلیا میں بے روزگاری کی شرح 7.4 فی صد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 22 برسوں کے دوران آسٹریلیا میں بے روزگاری کی سب سے بلند سطح ہے۔

امریکہ کی 'جانز ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں کرونا کیسز کی تعداد 11 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ کیسز میں بڑا اضافہ جنوبی ریاست وکٹوریا میں دیکھا گیا ہے جہاں آج 317 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

کرونا کیسز کی تعداد میں اضافے کے باعث وکٹوریا نے ہمسایہ ریاست نیو ساؤتھ ویلز سے ملحقہ سرحد بن کر رکھی ہے۔ وکٹوریا کے دارالحکومت میلبرن میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں بھی عائد ہیں۔

01:24 17.7.2020

کرونا میں مبتلا ہیرڈریسر نے 139 لوگوں کے بال کاٹے کسی کو وائرس منتقل نہیں ہوا

امریکی ریاست میزوری کے دو ہیر ڈریسرز نے اپنی دکان میں 139 لوگوں کے بال تراشے اور اپنے چھ ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں رہے، جس کے بعد انہیں پتا چلا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد ان سے ملنے والوں کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا۔ صحت کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ سب کا ٹیسٹ منفی رہا۔

یہ دونوں ہیر ڈریسرز میزوری کے علاقے گریٹ کلف کے ایک قصبے سپرنگ فیلڈ میں کام کرتے ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا زور ٹوٹنے کے بعد کاؤنٹی کے حکام نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر دی دیں اور محدود پیمانے پر کاروبار کھول دیے۔ تاہم لوگوں سے کہا گیا ہے کہ حفاظتی اقدام کا خیال رکھیں۔ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے قائم رکھیں۔

ہیرڈریسز نے ان احتیاطی تدابیر پر جہاں تک ممکن تھا، عمل کیا اور گاہکوں سے جہاں تک ممکن تھا دور رہے، تاہم بال کاٹتے وقت انہیں قریب آنا پڑتا تھا۔ اس دوران انہوں نے خود بھی ماسک پہنے رکھا اور بال کٹوانے والوں نے بھی ماسک پہنا۔

ان کے پاس بال کٹوانے کے لیے جانے والے سٹیو پوکن، جو صحافی بھی ہیں، کہتے ہیں کہ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ ماسک پہنے ہوئے آپ بال کٹوا لیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ بال کٹوانے کے دوران اپنے کانوں پر سے بال ترشوانے کے دوران پہلے مجھے ایک کان پر سے اور پھر دوسرے کان پر ماسک اتارنا پڑا تھا۔بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ ان دونوں ہیر ڈریسرز کو وائرس لگ گیا ہے تو میں بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو منفی آیا۔

مقامی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے ان دونوں ہیرڈریسرز سے رابطے میں آنے والے تمام 139 افراد کو مفت کرونا ٹیسٹ کرانے کی پیش کش کی، جن میں سے 67 افراد ان کے پاس گئے اور ان تمام کے ٹیسٹ نیگیٹو رہے۔جب کہ باقی افراد قرنطینہ میں چلے گئے اور قرنطینہ کی دو ہفتوں کی مدت ختم ہونے کے دوران ان میں وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔

ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کلے گاڈرڈ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت خوش کن خبر ہے کہ صرف ماسک پہننے سے ہی تمام لوگ کرونا وائرس منتقل ہونے کے خطرے سے بچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے محکمے نے 139 میں سے 104 افراد سے رابطہ کیا، جن میں سے 98 فی صد نے بتایا کہ انہوں نے تمام وقت ماسک پہنے رکھا جب کہ باقی دو فی صد نے بھی ماسک پہنا لیکن کچھ وقت کے لیے وہ بغیر ماسک کے بھی رہے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس عام ماسک تھے جب کہ کچھ نے کپڑے کے ماسک یا این 95 ماسک بھی استعمال کیے۔

اس خبر سے طبی ماہرین کے اس مشورے کی تائید ہوتی ہے کہ عوامی مقامات پر، جہاں سماجی فاصلہ رکھنا ممکن نہ ہو، ماسک کا استعمال کرونا وائرس کی ایک سے دوسرے شخص کو منتقلی کے خطرے کو کم کردیتا ہے۔

04:16 17.7.2020

ویکسین تیار کرنے والے اداروں کے خلاف روس کے سائبر حملوں پر اظہار تشویش

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے حکام نے جمعرات کو الزام لگایا کہ کرونا وائرس کی ویکسین اور طبی علاج معالجے کے تحقیقی کام کی چوری کی کوشش کرتے ہوئے، روس نے مغربی دواساز کمپنیوں اور تعلیمی اداروں پر سائبر ہیکنگ کے بڑی سطح کے حملے جاری رکھے ہیں۔

ایک مشترکہ بیان میں ان تینوں ملکوں کی حکومتوں نے کہا ہے کہ ہیکنگ کی یہ کارروائیاں فروری میں شروع ہوئیں اور تواتر سے جاری ہیں۔

برطانیہ کا سائبر سیکیورٹی سینٹر، سائبر سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے؛ اور امریکہ اور کینیڈا کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ ایک بیان میں سینٹر نے ہیکنگ کرنے والے روسی گروہوں، جنھیں 'اے پی ٹی 29' کا نام دیا گیا ہے، جس گروہ کو 'کوزی بیئر' بھی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر ہیکنگ میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG