رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:52 17.7.2020

سندھ پولیس کے 2500 سے زائد اہلکار کرونا کا شکار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

صوبۂ سندھ کی پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران 155 پولیس اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد 'کووڈ 19' کا شکار سندھ پولیس کے اہلکاروں کی تعداد 2515 تک پہنچ گئی ہے۔

ترجمان سندھ پولیس سہیل احمد جوکھیو کے مطابق اس مہلک وبا سے اب تک پولیس کے 16 افسران اور جوان جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق کراچی جب کہ دو کا تعلق حیدر آباد رینج سے ہے۔

سہیل احمد نے کہا ہے کہ اس وقت پولیس کے 1593 اہلکار کرونا کا شکار ہونے کے بعد زیر علاج ہیں جب کہ 900 سے زائد اہلکار آئسولیشن مکمل کر کے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے متاثرہ پولیس اہلکاروں اور افسران کو حفاظتی سامان اور دیگر چیزوں کی خریداری کے لیے 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔

محکمۂ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں گزشتہ روز 10 ہزار سے زائد نمونے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1170 میں کرونا کی تشخیص ہوئی۔

سندھ میں اب تک چھ لاکھ 25 ہزار 601 ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں اور مثبت کیسز کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار 238 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں سے 88 ہزار 103 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ میں 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' کے فیصلے کے تحت 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' میں 15 اگست تک توسیع کر دی گئی ہے۔ صوبے میں شادی ہالوں اور ہوٹلوں سمیت عوامی اجتماعات پر بھی بدستور پابندی عائد ہے۔

18:49 17.7.2020

19:09 17.7.2020

بلوچستان میں بازار رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کے سبب صوبے بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کر دی ہے۔ محکمۂ داخلہ بلوچستان نے عید کی خریداری کے لیے بازار اور شاپنگ مالز کھولنے کے اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

محکمۂ داخلہ سے جاری ہونے والے ایک نوٹی فکیشن کے مطابق تمام دکانیں، شاپنگ مالز اور اسٹورز کو ہفتے میں چھ دن صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی جب کہ جمعہ کے دن تمام کاروباری مراکز بند رہیں گے۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق بازار رات 10 بجے تک کھولنے کی اجازت 30 جولائی تک کے لیے ہو گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل شام سات بجے تک دکانیں کھولنے کی اجازت تھی۔

03:25 18.7.2020

ویکسین کی تیاری میں اولیت کی کوشش، چین امریکہ تنازع کی ایک اور وجہ

چین نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مقام کو چھیننے کی کوشش نہیں کر رہا جو اسے ٹیکنالوجی کی سپر پاور کے طور پر حاصل ہے، لیکن وہ اپنے خلاف واشنگٹن کی جانب سے کینے پر مبنی کسی بھی تہمت اور الزامات کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ بیان جمعے کے روز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر لگائے گئے الزامات کے جواب میں دیا۔

ہوا چن ینگ نے کہا کہ چین کے لیے سب سے اہم بات اپنے شہریوں کے ذرائع آمدنی اور معاش کو بہتر بنانا اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کی خارجہ پالیسی مسلسل جارحانہ ہو رہی ہے جسے وہ چین کی فوج، ٹیکنالوجی، اقتصادی اور دوسرے شعبوں میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں دیکھ رہے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان کے یہ تبصرے امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کی جمعرات کے روز کی جانے والی اس تقریر کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ چین نے عالمی وبا کرونا وائرس کے آغاز پر نہ صرف مارکیٹ پر اپنے مفاد میں غلبہ حاصل کرنے اور بیجنگ پر امریکہ کے انحصار کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا بلکہ اس نے ان ملکوں کے لیے مصنوعات کی برآمدات روکنے اور ذخیرہ اندوزی کے لیے بھی استعمال کیا جنہیں اس کی ضرورت تھی۔

بار نے یہ الزام بھی لگایا کہ چین کی حکومت سے منسلک ہیکرز نے امریکی یونیورسٹیوں اور کاروباروں کی کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری سے متعلق ریسرچ چرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بیجنگ کے خلاف یہ الزامات، مغربی ملکوں کی جانب سے روس کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے جانے کے کئی گھنٹوں کے بعد لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب چین کی حکومت بلکہ اس کا پورا معاشرہ عالمی معیشت پر کنٹرول حاصل کرنے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کی سپرپاور پر سبقت حاصل کرنے مہم چلا رہا ہے۔

ہوا نے سائبر حملوں سے متعلق بار کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ویکسین سے متعلق ان کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں چین قیادت کر رہا ہے۔ ہمارے پاس عالمی معیار کے ریسرچ سائنس دان ہیں، اور ہمیں چوری کے ذریعے قائدانہ پوزیشن حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

چین ویکسین بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے نئی ویکسین کے سلسلے میں اس وقت کئی ملکوں کے درمیان مسابقت جاری ہے، کیونکہ شہرت و وقار اور منافع اس کی جھولی میں آئے گا جو سب سے پہلے کرونا وائرس سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین متعارف کرانے میں کامیاب ہو گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG