کرونا کی شکار ایشوریا رائے بھی اسپتال منتقل
کرونا وائرس میں مبتلا بالی وڈ اداکارہ ایشوریا رائے کو بھی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اُن کے سسر امیتابھ بچن کو کرونا کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے امیتابھ بچن نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ اُن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اس کے بعد ایشوریا رائے، اُن کے شوہر ابھیشک بچن اور آٹھ سالہ بیٹی ارادھیا کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔
بچن فیملی کے یہ اراکین ممبئی کے نانا وتی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ امیتابھ بچن کی اہلیہ جیا بچن کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
انڈونیشیا میں کرونا کے مزید 1752 کیس رپورٹ
انڈونیشیا میں ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 1752 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار 882 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے ایک عہدیدار اچمند یوریانٹو نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہفتے کو وبائی مرض سے مزید 59 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار ہزار 16 ہوگئی ہے۔
انڈونیشیا میں رواں ماہ کے آغاز سے اب تک یومیہ اوسطً 1200 سے زائد نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ وہاں جون کے آخر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن نئے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک بھر میں واقع تمام سنیما ہالز کھولنے کا ارادہ ترک کردیا گیا ہے جب کہ جکارتہ میں دو ہفتوں تک کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے، اس دوران تمام سماجی اور سفری پابندیاں برقرار رہیں گی۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے کرونا اعداد و شمار پر تحفظات
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ملک میں کرونا وائرس کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کرونا ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ طبی ماہرین کی جانب سے تشویش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی اداروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک جانب ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کرونا ٹیسٹ کرانے کے لیے اسپتالوں کا رخ نہیں کر رہے۔
پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں میں کرونا وبا کی اصل صورتِ حال سامنے لانے کے لیے لیے ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اوسطاً 25 ہزار کے قریب ٹیسٹ یومیہ بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں جب کہ جون کے مہینے میں یہ شرح 30 ہزار سے اوپر بھی گئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے حکومت پاکستان کو سفارش کی گئی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار کرونا ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ مریضوں کی اصل تعداد کا تعین ہو سکے۔
اسی طرح ملک میں گزشتہ ماہ یومیہ اوسطاً پانچ ہزار نئے کیسز سامنے ارہے تھے تاہم اب یہ تعداد دو ہزار کی اوسط سے بھی کم رپورٹ ہورہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ملک میں اسمارٹ لاک ڈاون سے متعلق پالیسی سمیت دیگر اہم اقدامات ہیں جن کے تحت ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے اور یہ کیسز میں کمی کی وجہ بن رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹرز کی تنظیمیں ان حکومتی دعووں پر شک کا اظہار کرتی آئی ہیں۔
سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق پی ایم اے نے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بھی خط لکھ کر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ایم اے نے آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے بارے میں بھی اپنے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے۔
ڈاکٹرز کی ملک گیر تنظیم کے مطابق عیدالاضحی، یوم آزادی، محرم الحرام اور پھر ربیع الاول کے مہینوں میں سماجی فاصلوں اور دیگر ایس او پیز اختیار نہ کرنے پر کرونا وائرس کا پھیلاو بڑھنے کےخطرات ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم سے سے کہا ہے کہ اس حوالے سے ملک بھر میں ایک ہی پالیسی اپنائی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ممکن بنایا جائے تاکہ وبا کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پی ایم اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ سماجی فاصلوں کو یقینی بنانے، ماسک پہننے اور دیگر ایس او پیز پر عمل کرنے کے علاوہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل ممکن بنایا جائے۔