رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:37 18.7.2020

انڈونیشیا میں کرونا کے مزید 1752 کیس رپورٹ

انڈونیشیا میں ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 1752 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار 882 ہو گئی ہے۔

وزارت صحت کے ایک عہدیدار اچمند یوریانٹو نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہفتے کو وبائی مرض سے مزید 59 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار ہزار 16 ہوگئی ہے۔

انڈونیشیا میں رواں ماہ کے آغاز سے اب تک یومیہ اوسطً 1200 سے زائد نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ وہاں جون کے آخر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن نئے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک بھر میں واقع تمام سنیما ہالز کھولنے کا ارادہ ترک کردیا گیا ہے جب کہ جکارتہ میں دو ہفتوں تک کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے، اس دوران تمام سماجی اور سفری پابندیاں برقرار رہیں گی۔

17:50 18.7.2020

17:57 18.7.2020

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے کرونا اعداد و شمار پر تحفظات

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ملک میں کرونا وائرس کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کرونا ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ طبی ماہرین کی جانب سے تشویش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی اداروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک جانب ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس کے مریضوں اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کرونا ٹیسٹ کرانے کے لیے اسپتالوں کا رخ نہیں کر رہے۔

پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں میں کرونا وبا کی اصل صورتِ حال سامنے لانے کے لیے لیے ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اوسطاً 25 ہزار کے قریب ٹیسٹ یومیہ بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں جب کہ جون کے مہینے میں یہ شرح 30 ہزار سے اوپر بھی گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے حکومت پاکستان کو سفارش کی گئی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار کرونا ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ مریضوں کی اصل تعداد کا تعین ہو سکے۔

اسی طرح ملک میں گزشتہ ماہ یومیہ اوسطاً پانچ ہزار نئے کیسز سامنے ارہے تھے تاہم اب یہ تعداد دو ہزار کی اوسط سے بھی کم رپورٹ ہورہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ملک میں اسمارٹ لاک ڈاون سے متعلق پالیسی سمیت دیگر اہم اقدامات ہیں جن کے تحت ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے اور یہ کیسز میں کمی کی وجہ بن رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹرز کی تنظیمیں ان حکومتی دعووں پر شک کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق پی ایم اے نے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بھی خط لکھ کر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ایم اے نے آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے بارے میں بھی اپنے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے۔

ڈاکٹرز کی ملک گیر تنظیم کے مطابق عیدالاضحی، یوم آزادی، محرم الحرام اور پھر ربیع الاول کے مہینوں میں سماجی فاصلوں اور دیگر ایس او پیز اختیار نہ کرنے پر کرونا وائرس کا پھیلاو بڑھنے کےخطرات ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم سے سے کہا ہے کہ اس حوالے سے ملک بھر میں ایک ہی پالیسی اپنائی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ممکن بنایا جائے تاکہ وبا کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پی ایم اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ سماجی فاصلوں کو یقینی بنانے، ماسک پہننے اور دیگر ایس او پیز پر عمل کرنے کے علاوہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل ممکن بنایا جائے۔

02:33 19.7.2020

ایک سو گھنٹوں میں کرونا وائرس کے دس لاکھ نئے مریضوں کا ریکارڈ

جمعے کے روز دنیا بھر میں کرونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ گئی اور اس کے ساتھ ہی اس مہلک مرض نے اپنے پھیلاؤ کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جس میں ایک سو گھنٹوں کے دوران دس لاکھ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

کرونا وائرس کا پہلا مریض جنوری کے شروع میں چین میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد یہ تعداد ایک ملین یعنی دس لاکھ تک پہنچنے میں تین مہینے لگے۔ دوسری جانب 13 جولائی سے17 جولائی کے دوران محض ایک سو گھنٹوں میں دس لاکھ نئے افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

امریکہ میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 38 لاکھ کے قریب پہنچ گئی تھی اور عالمی وبا کی جاری پہلی لہر میں ہر روز بڑی تعداد میں پازیٹو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ جمعرات کے روز امریکہ میں اس وقت وبا کے پھیلاؤ کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا جب 24 گھنٹوں میں 77 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ سویڈن میں وبا شروع ہونے سے اب تک کل 77281 افراد میں عالمی وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔

ایک طرف امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب ماسک پہننے کے معاملے پر لوگوں میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ اور ان کے حامی ماسک پہننے سے احتراز کر رہے ہیں اور وہ لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ماضی کی اقتصادی سرگرمیاں شروع کر کے معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں اور سکول دوبارہ کھول دیے جائیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وبائی مرض فلو کے شدید پھیلاؤ میں دنیا بھر میں مریضوں کی جتنی تعداد رپورٹ ہوتی رہی ہے، کرونا وائرس کے کیسز اس سے تین گنا بڑھ چکے ہیں۔

سات مہینوں کے عرصے میں یہ مہلک وبا دنیا بھر میں 6 لاکھ سے زیادہ انسانی جانیں نگل چکی ہے جو انفلونزا سے دنیا بھر میں ہونے والی زیادہ سے زیادہ سالانہ اموات کے قریب تر ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا میں پہلی ہلاکت 10 جنوری کو چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ یہ وہ شہر ہے جہاں اس مرض کی پیدائش ہوئی۔

امریکہ کے بعد کرونا کے سب سے زیادہ مریض برازیل میں ہیں جن کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں ملک کے صدر اور کئی دوسرے عہدے دار بھی شامل ہیں۔ وہاں تقریباً 78 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔

دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے جہاں حالیہ دنوں میں لگ بھگ 30 ہزار نئے کیسز کی روزانہ کی بنیاد پر تصدیق ہو رہی ہے اور کل تعداد 10 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ 17 جولائی ایک ایسا دن ہے جس میں ایک روز میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی اور یہ تعداد 2 لاکھ 37 ہزار 743 تھی۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG