رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:37 19.7.2020

ایشوریہ رائے میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق، اسپتال داخل

بالی وڈ کی معروف فلم سٹار ایشوریہ رائے بچن کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئی ہیں اور ان کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایشوریہ رائے کی ایک اور وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ حسینہ عالم بھی رہ چکی ہیں۔ ان کا شمار بالی وڈ کی سب سے معروف اداکاروں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی کئی فلمیں ریکارڈ بزنس کر چکی ہیں۔

ایشوریہ رائے سے قبل ان کے شوہر ابھیشک اور ان کے سسر امیتابھ بچن میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس پر ان دونوں کو ہفتے کے روز علاج کے لیے اسپتال داخل کرا دیا گیا تھا۔ ان دونوں کا شمار بالی وڈ کے چوٹی کے اداکاروں میں کیا جاتا ہے۔

ایشوریہ رائے کو علاج کے لیے ممبئی کے ناناوتی اسپتال لایا گیا ہے۔ ان کی بیٹی ارادھیا بھی اپنی ماں کے ساتھ اسپتال میں ہیں۔

امیتابھ بچن کی عمر 77 سال ہے۔ اداکاری میں ان کا طویل کیریئر ہے اور فن کی دنیا میں اپنی عالمی پہچان رکھتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ اتوار اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ کرونا وائرس کا پازیٹو رزلٹ آنے کے بعد اب اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔

امیتابھ کے بعد ان کے بیٹے ابھیشک نے ٹوئٹ کیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آ گیا ہے۔ ابھیشک بھی ایک معروف اداکار ہیں۔ ان کی عمر 46 سال ہے۔ ان کی بیٹی ارادھیا کی عمر آٹھ سال ہے۔

بچن فیملی کی ایک اور مشہور شخصیت جیا بچن ہیں۔ وہ امیتابھ بچن کی شریک حیات اور اپنے دور کی معروف فلم سٹار ہیں۔ ان کا کرونا ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا۔

اسپتال میں داخل کیے جانے سے قبل اب تک ایشوریہ رائے اور ارادھیا گھر پر قرنطینہ میں تھیں۔

امیتابھ فیملی کو بھارت میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس خبر سے ان کے پرستاروں کو بڑا دھچکا لگا ہے اور وہ ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

بھارت کرونا وائرس سے دنیا بھر میں تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ اس وقت وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے اور حالیہ دنوں میں وہاں ہرروز 30 ہزار کے لگ بھگ نئے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جمعے کے روز وہاں 24 گھنٹوں کے دوران 35 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

02:45 19.7.2020

بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز

بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ علاقے بھی لپیٹ میں آ گئے ہیں جو اب تک نسبتاً محفوظ خیال کیے جا رہے تھے۔ ماہرین نے انتباہ کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ دوبارہ لاک ڈاون کرنا پڑے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون سے وبا کا زور ٹوٹ سکتا ہے، مگر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔

بھارت میں صحت کے ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ نئے متاثرہ علاقوں میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اس طرح بھارت کے بہت سے صوبوں میں یہ وبا مزید تیزی سے پھیلے گی۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق، پچھلے پندرہ دنوں میں یہ تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کا خیال ہے تقریباً ایک ارب تیس کروڑ آبادی والے ملک میں ٹیسٹنگ بھی کم ہو رہی ہے اور اگر اس میں اضافہ ہوا تو کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

کیمونٹی میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر کپل یادو نے کہا کہ ہر صورت میں یہ طئے ہے کہ کیسز کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے وہ اصل تعداد سے بہت کم ہے۔ یہ وائرس مغربی ملکوں کی طرح یہ اپنی انتہا کو پہنچے گا۔

بھارت ایک وسیع ملک ہے اور مختلف مقامات پر یہ مختلف اوقات میں زور پکڑتا ہے۔

پہلے نئی دہلی، صوبہ مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں زیادہ تعداد میں کیسز دیکھنے میں آئے اور اب بنگلور اور بہار کے صوبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بہار کی آبادی دس کروڑ سے زیادہ ہے اور اس کا شمار بھارت کے غریب ترین صوبوں میں ہوتا ہے جہاں طبی سہولتیں بھی ناکافی ہیں۔

متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس انتہائی چھوت دار ہے اور گنجان آباد غریب آبادیوں میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان علاقوں میں اس سے بچنے کی بنیادی احتیاطوں پر عمل کرنا نا ممکن ہے۔ بھارت میں دس ہفتوں کے سخت لاک ڈاون سے اس کی رفتار سست پڑی، مگر یہ طوفان تھما نہیں۔ پھر جون سے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

حکومت نے کچھ علاقوں میں کاروبار کو کھولا ہے، مگر بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لوگ بے یقینی کا شکار ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ دوکانیں دوبارہ نہ بند کرنا پڑیں۔ نئی دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں اب تک میٹرو اور ٹرین سروس بند ہے۔ سکول اور کالج بھی بند ہیں۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں۔ گوا جیسے سیاحتی مقام میں لاک ڈاون جاری ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

کیمونٹی میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر کپل یادو کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کا مقصد صرف اتنا ہی رہا کہ پبلک ہیلتھ سسٹم کو تیاری کے لیے مہلت مل جائے۔ لیکن اگر ان پانچ مہینوں میں بھی تیاری نامکمل رہی تو اگلا ہفتہ بھی ایسا ہی گذرے گا جیسا کہ یہ ہفتہ۔

سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے اور اگر یہاں کرونا کی وبا کا حملہ ہوا تو پھر نہ صرف کیسز کی تعداد بڑھے گی، بلکہ اموات میں بھی اضافہ ہو گا۔

نئی دہلی میں پبلک ہیلتھ فاونڈیشن کے صدر کے سری ناتھ ریڈی کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں وائرس پھیلا تو چیلنجز بڑھ جائیں گے اور ایسے حالات میں صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہاں تک اس کے علاج کی سہولتیں بہم ہو جائیں۔ دوسری طرف بہار جیسے غریب صوبوں کی دیہی آبادی کے لیے سخت خطرہ ہے ۔ تاہم، ریڈی اس بارے میں پر امید ہیں کہ شہروں کے مقابلے میں دیہاتوں میں کرونا سست رفتاری سے پھیلے گا۔

اخبار ٹائیمز آف انڈیا نے انتباہ کیا ہے کہ وبا کے ساتھ معیشت کی تباہی بھی ملک کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہو گی۔ لاک ڈاون کرنے اور اٹھانے سے بھی لوگوں تک منفی پیغام پہنچ رہا ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ لاک ڈاون کی ضرورت اور اہمیت سے عوام کو بہتر طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔

متعدی امراض کے ماہر جیکب جان کہتے ہیں کہ عوام کا خیال ہے کہ لاک ڈاون سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ لاک ڈاون اور دوسری احتیاطوں کے باوجود یہ دشمن زندہ اور طاقت ور ہے۔

کرونا وائرس کی اس جنگ میں بھارت کے لیے صرف یہ بات تسلی کا باعث ہے کہ مغربی ملکوں کی نسبت یہاں اموات کی شرح کم ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل اس وائرس کا مقابلہ کر کے صحت یاب ہو جاتی ہے اور اسی لیے ملک کی مجموعی شرح اموات نسبتاً کم رہی ہے۔

11:02 19.7.2020

پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 46 ہلاکتیں، 1579 کیسز کا اضافہ

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 1579 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 24 گھنٹوں میں مزید 46 افراد وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ملک بھر میں اب تک مجموعی طور پر 5568 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 17 لاکھ 21 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ گزشتہ روز سے اب تک 23ہزار کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حکومتی شخصیات مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ ملک بھر میں لیبارٹریز کی ہومیہ ٹیسٹ کرنے کی مجموعی استعداد 50 ہزار کے قریب ہے لیکن اب تک ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ 24 گھنٹوں میں 50 ہزار یا اس کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہوں۔

12:21 19.7.2020

امریکہ: 85 شیر خوار بچوں میں وائرس کی تصدیق

امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں طبے عملے نے بتایا ہے کہ 85 شیرخوار بچوں کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر اینیٹ روڈریگز کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ 85 شیر خوار بچوں کی عمریں ایک سال سے بھی کم ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

روڈریگز کا کہنا ہے کہ ان بچوں نے ابھی اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں منائی لہذا انہیں ساتھ لے کر غیر محفوظ سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان کے بقول بچوں کی صحت کی خاطر معاشرتی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ عوام ہر صورت ماسک پہنیں اور گھر میں رہ کر اس بیماری کو پھیلنےسے روکنے میں انتظامیہ کی مدد کرے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کے 37 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG