کرونا کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے متجاوز
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 50 لاکھ نو ہزار 213 ہو چکی ہے جب کہ چھ لاکھ 16 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
وائرس سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں امریکہ بدستور پہلے نمبر پر ہے۔ لاطینی امریکہ کا ملک برازیل دوسرے، بھارت تیسرے اور روس اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔
امریکہ میں کووڈ 19 کا شکار مریضوں کی تعداد 39 لاکھ دو ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
بھارت میں 37 ہزار سے زائد نئے کیسز، امرناتھ یاترا منسوخ
بھارت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر ہندو زائرین کی سالانہ امرناتھ یاترا منسوخ کر دی ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندوؤں کے بھگوان شِو سے منسوب ایک غار ہے جسے امرناتھ غار کہا جاتا ہے۔ ہندو زائرین ہر سال اس غار کی زیارت کے لیے کشمیر جاتے ہیں۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 ہزار 724 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
زائرین کو امرناتھ یاترا پر لے جانے والے ادارے کے منتظمین نے کہا ہے کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کو دیکھتے ہوئے یاترا منسوخ کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ لوگوں کو گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے کی اجازت نہیں جب کہ دکانیں اور کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔
قطر کا یکم اگست سے سرحدیں کھولنے کا اعلان
قطر نے غیر ملکی شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر کی حکومت کی طرف جسے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ملک غیر ملکی شہریوں اور قطر میں مستقل مقیم غیر ملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں یکم اگست سے کھول دے گا۔
قطر کی حکومت کے ابلاغی ادارے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جن ملکوں میں کرونا وائرس کا خطرہ کم ہے ان کے شہریوں کو قطر آنے کی اجازت ہو گی لیکن ایئرپورٹ پر ان کا کرونا ٹیسٹ کیا جائے گا اور انہیں ایک ہفتہ قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔
بیان کے مطابق بیرون ملک سے قطر آنے والوں کو سات روز قرنطینہ میں رہنے کے بعد دوبارہ کرونا ٹیسٹ کرانا ہو گا جس کے بعد انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔
رواں برس حج کے لیے عازمین کا انتخاب کس طرح کیا گیا؟
سعودی عرب نے رواں برس محدود تعداد میں عازمین کو حج کی اجازت دی ہے جس کے بعد یہ سوال یقیناََ آپ کے ذہن میں بھی گردش کر رہا ہوگا کہ ان افراد کا انتخاب آخر کیسے کیا گیا ہے؟
حج دنیا میں ہونے والے بڑے انسانی اجتماعات میں سے ایک ہے۔ لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے حالیہ دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دیگر ممالک کے لاکھوں عازمین کو حج کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سعودی حکام نے مکہ میں مسلمانوں کے مقدس مقام مسجد الحرام میں عبادات کو محدود کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود سعودی عرب میں مقیم ہزاروں افراد نے حج کے لیے درخواستیں ارسال کی تھیں۔ جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے 10 ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا ہے۔
سعودی حکومت نے سعودی عرب میں مقیم 160 ممالک کے شہریوں سے بھی آن لائن درخواستیں طلب کی تھیں اور کہا تھا کہ رواں برس منتخب ہونے والے 70 فی صد عازمینِ حج غیر ملکی تارکین وطن ہوں گے۔
اس سال حج کے لیے منتخب ہونے والے افراد میں دارالحکومت ریاض میں مقیم اردن کے ایک 29 سالہ انجینئر اور ان کی 26 سالہ اہلیہ بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حج کے لیے اس قدر زیادہ درخواستیں آئی تھیں کہ ہمیں ایک فی صد بھی امید نہیں تھی کہ رواں برس حج کے لیے ہمارا انتخاب ہو گا۔
ان کے بقول قرعہ اندازی میں حج کے لیے منتخب ہونے پر جہاں وہ حیرت کا شکار ہوئے وہیں انہیں بہت زیادہ خوشی بھی ہوئی۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے حج کے لیے منتخب ہوجانے سے متعلق سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ بھی اس وجہ سے ڈیلیٹ کردی کہ کہیں اس بنیاد پر ان کی درخواست مسترد نہ کردی جائے۔
ریاض میں ہی مقیم نائیجیریا کے ناصر بھی اپنے انتخاب پر بہت خوش ہیں اور اس بار حج کی اجازت کو 'گولڈن ٹکٹ' سے تشبیہہ دیتے ہیں۔