ہنزہ: 'فائبر آپٹکس گھر کے باہر سے گزرتی ہے لیکن ہمیں انٹرنیٹ میسر نہیں'
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے پاکستان میں طلبہ کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث مختلف یونیوسٹیوں نے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں جو دور دراز علاقوں میں مقیم طلبہ کے لیے دردِ سر بن گئی ہیں۔ دیکھیے آن لائن کلاسز سے طلبہ اور اساتذہ کو درپیش مشکلات پر وی او اے کی خصوصی سیریز کا پہلا حصہ
افغانستان میں کووڈ 19 کے 35 ہزار 700 مریض، 1190 اموات
افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 'کووڈ 19' کے 112 نئے کیسز کی اطلاع دی ہے۔
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 35 ہزار 727 ہو گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق کرونا وائرس سے افغانستان میں اموات کی تعداد 1190 ہو گئی ہے۔
'امریکہ میں کرونا کے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہے'
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سی ڈی سی' کا کہنا ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والی تعداد سے دو سے 13 گنا تک زیادہ ہے۔
سی ڈی سی نے یہ انکشاف ان لوگوں کے خون کے نمونوں کی جانچ کے بعد کیا ہے جو ملک کے 10 حصوں میں معمول کے میڈیکل ٹیسٹس کے لیے اسپتال پہنچے تھے۔ ان علاقوں میں نیویارک شہر، جنوبی فلوریڈا، میزوری، یوٹا اور واشنگٹن ریاست شامل ہیں۔
میزوری میں کرونا وائرس کے مریضوں کی اصل تعداد رپورٹ کی جانے والی تعداد کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے جب کہ یوٹا میں دو گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
طبی جریدے 'انٹرنل میڈیسن' میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے صرف اس لیے کرونا وائرس کے ٹیسٹ نہیں کرائے کیوں کہ ان میں وائرس کی علامات یا تو نسبتاً کم تھیں یا بالکل نہیں تھیں۔ تاہم انہیں کرونا وائرس لاحق ہو چکا تھا اور وہ اس وائرس کو مزید لوگوں تک پھیلانے کا باعث بنے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس میں اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ صورت حال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو گی۔
امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کی جانچ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائیزر' اور جرمن کمپنی 'بائیون ٹیک' کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کی جانے والی ویکسین تجرباتی طور پر برازیل میں کرونا کے مریضوں کو دی جا رہی ہے۔
دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے ادارے 'یونیسیف' کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند رہنے کی وجہ سے اسکول میں داخلے کی عمر کو پہنچنے والے چار کروڑ بچے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے سے محروم رہے ہیں۔