پاکستان میں مزید 32 اموات، 1763 کیسز
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 32 مریض چل بسے جب کہ ملک بھر میں 1763 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 5709 ہو گئی ہے۔ اس وبا کے کیسز کی کل تعداد دو لاکھ 69 ہزار 191 ہے جن میں سے دو لاکھ 13 ہزار 175 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کرونا کیسز میں نیویارک سے آگے
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں کرونا کیسز کی تعداد نیویارک کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والی امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے مطابق ریاست کیلی فورنیا میں کرونا کیسز کی تعداد چار لاکھ نو ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جو امریکہ میں کسی بھی ریاست میں مقابلے میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ریاست نیویارک کو کرونا کیسز سے سب سے زیادہ متاثر قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم اعداد و شمار کے مطابق کیلی فورنیا میں نیویارک کے مقابلے میں 1200 زیادہ کیسز ہیں۔
ہلاکتوں کے اعتبار سے نیویارک سب سے آگے ہےجہاں اب تک 32 ہزار 520 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 43 ہزار 190 مریض ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں 39 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کی ویکسین بننے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟
ہر دوا بیماری کے علاج کے لیے بنائی جاتی ہے، لیکن ویکسین اس لحاظ سے منفرد اور اہم ہے کہ وہ بیماری کو لاحق ہونے سے روکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا میں 26 بیماریوں کی ویکسینز دستیاب ہیں جبکہ 24 بیماریوں کی ویکسینز پر تحقیق جاری ہے۔ لیکن ان میں کوویڈ نائنٹین کا باعث بننے والے کرونا وائرس کی ویکسین شامل نہیں، کیونکہ اس کا معاملہ سب سے جدا ہے۔
عالمگیر وبا سے اب تک دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس قدر نقصان کی وجہ سے سب چاہتے ہیں کہ جلدازجلد اس کی ویکسین بنے اور ماہرین اس بارے میں خوش خبری سنائیں۔
پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ کا جدید نظام متعارف کرانے کے خواہش مند ڈاکٹرز
امریکہ میں دو پاکستانی نژاد امریکیوں نے اپنی ٹیلی میڈیسن کمپنی، 'وی میڈ' کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے، جو ایمرجنسی کے مریض کے اسپتال پہنچتے ہی صرف پانچ منٹ میں اس کا متعلقہ شعبے کے ایک ایسے ڈاکٹر سے ٹیلی ہیلتھ اسکرین پر رابطہ کراتا ہے جو اس کے معائنے اور علاج کے لیے پہلے سے موجود اور تیار ہوتا ہے۔
یہ سسٹم اس وقت امریکہ کی مختلف ریاستوں کے لگ بھگ 60 اسپتالوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کام کرنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر ارشد علی اور اعجاز عارف ٹیلی میڈیسن کی امریکی کمپنی وی میڈ کے، بالترتیب، سی ای او اور پریذیڈنٹ ہیں۔
ڈاکٹر ارشد نے بتایا کہ اگرچہ کرونا کی وبا کے دوران ٹیلی ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کی سروس کا استعمال دنیا بھر میں خاص طور پر امریکہ میں بہت بڑھ گیا ہے جس سے کرونا ہی نہیں بلکہ دوسری خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہزاروں مریض بھی جلد اور بہترین علاج کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔