روس میں کرونا کیسز آٹھ لاکھ کے قریب
روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے پانچ ہزار 848 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد سات لاکھ 95 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
روس کرونا سے متاثرہ ملکوں میں بالترتیب امریکہ، برازیل اور بھارت کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد اس وبا میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
روس میں کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہے۔
امریکہ میں 2600 کیسز فی گھنٹہ کے حساب سے کرونا کے مریضوں میں اضافہ
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 40 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے جب کہ ملک میں کرونا کے نئے مریضوں کی تعداد اوسطاً 2600 کیسز فی گھنٹہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ یہ دنیا بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی سب سے بلند شرح ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے 98 روز بعد تعداد 10 لاکھ تک پہنچی تھی۔ کرونا کے کیسز 20 لاکھ تک پہنچنے میں 43 روز مزید لگے جب کہ اس کے اگلے 27 دن بعد تعداد 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
کرونا کے آخری 10 لاکھ کے قریب کیسز صرف 16 روز میں سامنے آئے ہیں۔
افغانستان میں کرونا کیسز 36 ہزار کے قریب، 1211 اموات
افغانستان کی وزارتِ صحت نے رپوررٹ کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد35 ہزار 928 ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 201 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
وائرس سے اب تک ہونے والی اموات کی کل تعداد 1211 ہے۔
وزارتِ صحت کے نگران وزیر ڈاکٹر احمد جواد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ افغانستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کرونا کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں نے عیدالفطر کے موقع پر کی گئی غلطیوں کو دہرایا تو ملک میں 'کووڈ 19' کے کیسز کی تعداد پھر بڑھ جائے گی۔
افغانستان میں کرونا کے کیسز دارالحکومت کابل میں سب سے زیادہ ہیں جس کے بعد ہرات، بلخ، ننگرہار اور قندہار کا نمبر ہے۔
کرونا وائرس ویکسین کی قیمت طے
کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کی کوششوں میں مصروف اداروں سے امریکی انتظامیہ کے معاہدے کی وجہ سے دوا کی قیمت طے ہوگئی ہے اور یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ کوئی کمپنی ناجائز منافع نہیں کما سکے گی۔
امریکی انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ فائزر اور بایو این ٹیک کو ایک ارب 95 کروڑ ڈالر دے گی جس کے عوض وہ 5 کروڑ امریکیوں کو اپنی ویکسین فراہم کریں گی۔ اس طرح ایک شخص کی ویکسینیشن کا خرچہ 39 ڈالر آئے گا جو عام فلو کی ویکسین جتنا ہے۔ اس طرح دواساز ادارے مناسب منافع کماسکیں گے۔
فائزر اور بایو این ٹیک کی ممکنہ ویکسین کی تیاری اس ماہ کے آخر میں شروع کی جارہی ہے۔ امریکی انتظامیہ سے معاہدے کرنے والی دوسری کمپنیوں کے برعکس فائزر اور بایو این ٹیک اس وقت تک رقم وصول نہیں کریں گی جب تک ان کی ویکسین محفوظ اور موثر ثابت نہیں ہوجاتی۔